انکوائری کمیشن سے سوموٹو تک 

مزمل سہروردی  بدھ 3 اپريل 2024
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے خط پر اب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سو موٹو ایکشن لے لیا ہے اور بدھ کو ایک سات رکنی لارجر بنچ اس کی سماعت کرے گا۔ اس سے پہلے اس خط کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے دو اجلاس ہو ئے۔

پہلے اجلاس کے بعد وزیر اعظم اور وزیر قانون کو چیف جسٹس پاکستان نے بلایا۔ جس کے بعد وفاقی کابینہ کی منظوری سے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی پر مشتمل ایک انکوائری کمیشن بنایا گیا۔ لیکن ایک دن بعد ہی انھوں نے اس انکوائری کمیشن کی سربر اہی سے معذرت کر لی۔

ادھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس ایشو پر سو موٹو نوٹس لے لیا۔ بہت سے لوگ یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ جسٹس تصدق جیلانی نے معذ رت پہلے کی یا سوموٹو پہلے لیا گیا۔ میری رائے میں جب معلوم ہوا ہو گا کہ تصدق جیلانی معذرت کر رہے ہیں تو بحران کو شدید ہونے سے بچانے کے لیے فوری سو موٹو لے لیا گیا۔

انکوائری کمیشن بننے کے بعد اور تصدق جیلانی کی معذرت کے دوران تحریک انصاف نے تو اس انکوائری کمیشن کو مسترد کیا۔ اس کے ساتھ تحریک انصاف کے حامی وکلا کی جانب سے تین سو وکلا کا ایک خط بھی سامنے آیاجس میں سب کی حیرانی کے لیے تصدق جیلانی صاحب کے بیٹے کے دستخط بھی موجود تھے، اس خط میں بھی اس انکوائری کمیشن کو جہاں مسترد کیا گیا، وہاں سپریم کورٹ سے براہ راست اس معاملہ کی سماعت کے لیے کہا گیا۔

ادھر پی ٹی آئی کے حامی وکلاء کے اس خط پر ریٹائرڈ جسٹس جیلانی صاحب کے صاحبزادے کے دستخط نے بھی ایک عجیب ماحول پیدا کیا۔ ہمارے معاشرے میں والدین اور اولاد کا رشتہ محبت اور احترام پر استوار ہے، لیکن سیاست میں سب چلتا ہے، ہمارے ہاں کے سیاسی کلچر میں تو محاورہ بولا جاتا ہے کہ سیاست اپنی اپنی۔ سیاست خواہ عوامی ہویا وکلاء تنظیموں کی، ہمارے ہاں سیاست شاید والدین کے روایتی احترام سے زیادہ اہم نظر آئی ہے۔

مجھے ایسا ہی لگتا ہے کہ شاید ریٹائرڈ چیف جسٹس تصدیق جیلانی کو گھر سے سپورٹ نہیں ملی ورنہ جب حکومت نے ان سے رابطہ کیا تھا، وہ تب معذرت کر سکتے تھے، رضامندی دینے کے بعد عہدہ سنبھالنے سے معذرت، اوپر سے پی ٹی آئی وکلاء کا خط اور اس پر صاحبزادے کے دستخط، لہٰذا باتیں تو ہونے ہی ہیں، انھیں سننا بھی پڑے گا اور برداشت بھی کرنا پڑے گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کے خط پر اب سو موٹو لیا جا چکا ہے، اب اس کی عدالت میں سماعت ہوگی۔

تحریک انصاف نے اس سوموٹو کے تحت قائم ہونے والے سات رکنی بنچ کو بھی مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ججز کے اس خط کی سماعت کے لیے فل کورٹ بنایا جائے۔ دوسری طرف قانونی ماہرین کا موقف ہے کہ سات رکنی بنچ سے بڑا بنچ بن ہی نہیں سکتا تھا۔ نئے قوانین کے تحت اب چیف جسٹس کے سوموٹو کے خلاف اپیل کا حق دے دیا گیا ہے۔ اس لیے اس سوموٹو کے فیصلے کے خلاف اپیل آنے کے وسیع امکانات ہیں۔ اس لیے اگر اب فل کورٹ بنا دیا جائے تو پھر اپیل کون سنے گا۔

سپریم کورٹ میں ججز کی کل تعداد پندرہ ہے۔ اگر اب سات رکنی بنچ سوموٹو سنے گا تو کل اپیل باقی بچنے والے جج سن لیں گے۔ جب انکوائر ی کمیشن بنایا گیا تھا، تب تحریک انصاف لارجر بنچ بنانے کا مطالبہ کر رہی تھی۔ شاید تب انھیں بھی میری طرح اندازہ نہیں تھا کہ سپریم کورٹ سو موٹو لے لے گا، اس لیے وہ لارجر بنچ کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن جب سوموٹو لے لیا گیا اور لارجر بنچ بنا دیا گیا تو انھوں فل کورٹ کا مطالبہ شروع کر دیا ۔

مجھے اندازہ ہے اگر فل کورٹ بھی بنا دیا جائے تو وہ ایک نیا مطالبہ لے آئیں گے۔ وہ ایشو کو متنازعہ رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اس مسئلہ کا کوئی متفقہ یا مستقل حل نہیں چاہتے۔ ان کی کوشش ہے کہ وہ مسئلے کو اس طرح متنازعہ رکھیں تاکہ اس پر سیاست کی جا سکے۔ ان کے لیے یہ بہترین سیاسی کارڈ ہے۔

یہ سوال اہم ہے کہ تحریک انصاف ا س خط کے ایشو کو متنازعہ رکھ کر سیاست کیوں کرنا چاہتی ہے۔ سادہ بات ہے، بانی تحریک انصاف کے مقدمات بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں، اس بحران کا انھیں فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے ان کی کوشش ہوگی کہ بحران حل نہ ہو بلکہ کسی نہ کسی شکل میں چلتا رہے تا کہ عدلیہ کو دبائو میں رکھ سکیں۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں چیف جسٹس پاکستان کو سو موٹو کی پہلی سماعت میں اس معاملہ پر سیاسی بیان بازی پر مکمل پابندی لگا دینی چاہیے۔ انھیں واضح کرنا چاہیے کہ یہ ایک قانونی اور آئینی مسئلہ ہے، ہمیں اسے قانون اور آئین کے تناظر میں حل کرنا ہے۔

ایک دفعہ بیان بازی بند ہو جائے گی تو سیاسی دکانداریاں بھی بند ہو جائیں گی۔ جو لوگ اس معاملہ کے خود ساختہ ٹھیکدار بن گئے ہیں،ان کی دکانیں بھی بند ہو جائیں گی۔ میں مانتا ہوں کہ عدلیہ کی خود مختاری نظام عدل کی بنیاد ہے۔ یہ واحد نقطہ ہے جس پر نظام عدل کا وجود آیا ہے۔ اگر عدلیہ آزاد نہیں تو عدلیہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ عدلیہ کی آزادی ہی عدلیہ کی بنیاد ہے۔ اس لیے اس بات کو ہر ممکن سطح تک یقینی بنانا چاہیے کہ عدلیہ پر فیصلے کرنے کے لیے کوئی دبائو نہیں ہونا چاہیے۔

ججز فیصلے کرنے کے لیے آزاد ہونے چاہیے۔ اس ضمن میں آجکل ایگزیکٹو کے دبائو کی بہت بات ہو رہی ہے۔ ایجنسیوں کی جانب سے دبائو کی بہت بات ہو رہی ہے۔ ایک رائے بنائی جا رہی ہے کہ اسٹبلشمنٹ اپنی مرضی کے فیصلے حا صل کرنے کے لیے ججز پر ایجنسیوں کے ذریعے دبائو ڈالتی ہے۔ اسلام آباد ہا ئی کورٹ کے ججز کے خط میں بھی ایسے اشارے ملتے ہیں۔ اس لیے رائے عامہ ایسی بنتی جا رہی ہے۔

میں سمجھتا ہوں عدلیہ کو سیاسی جماعتیں بھی دبائو میں رکھتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ وہ عدلیہ کو دبائو میں رکھیں۔ اس مقصد کے لیے وہ بھی میڈیا میں کھلے عام مہم چلاتی ہیں، عوامی مظاہرے کرائے جاتے ہیں، وکلاء تنظیموں کو باہر نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے، مباحثے شروع کرائے جاتے ہیں، یوں ایک دباؤ کا پریشر کئی گناہ بڑھایا جاتا ہے، اگر سپریم کورٹ سوموٹو لینے کے موڈ میں ہوتی تو فل کورٹ کے پہلے اجلاس کے بعد سوموٹو لے لیا جاتا۔

فل کورٹ کے دوسرے اجلا س کے بعد لے لیا جاتا۔ لیکن فل کورٹ کے ا جلاسوں کا اعلامیہ ہمارے سامنے ہے،صاف لکھا ہے کہ فیصلے اکثریتی رائے سے ہوئے ہیں، اس لیے ان فیصلوں میں سو موٹو نہیں تھا۔

کیا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اب سوموٹو سیاسی دبائو میں لیا گیا۔ ایک سیاسی جماعت معاملہ کی سپریم کورٹ میں سماعت چاہتی تھی، اس لیے اس جماعت نے ایسا سیاسی دبائو بنایا کہ معاملہ سوموٹو کی طر ف چلا گیا۔ کیا یہ دبائو نہیں ہے؟ کیاصرف ایگز یکٹو کا دبائو ہی دبائو ہے؟

سیاسی دبائو دبائو کیوں نہیں، نان اسٹیٹ ایکٹرز دباؤ نہیں بڑھاتے۔ میں تواس کو مرضی کا فیصلہ لینے کی ایک عمدہ چال ہی سمجھتا ہوں۔ کیسے صرف الزمات کی بنیاد پر، ابھی کچھ ثابت نہیں ہوا، ایک رائے عامہ بنا کر سوموٹو کے لیے راہ ہموار کی گئی ہے۔ اور اب لار جر بنچ کو بھی متنازعہ بنایا جا رہا ہے، اس لیے دبائو کسی بھی شکل کا ہو، قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔