مقبوضہ کشمیر کے باغات میں ریل منصوبے سے لاکھوں افراد کا روزگار خطرے میں

ویب ڈیسک  جمعرات 11 اپريل 2024
مقامی کسانوں سے جبرا ان کی زمین ہتھیالی جائے گی۔

مقامی کسانوں سے جبرا ان کی زمین ہتھیالی جائے گی۔

 سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارت سرکار نے کشمیریوں کو معاشی نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنالیا۔

الجزیرہ کے مطابق مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں 190 کلومیٹر طویل ریلوے لائن پر مشتمل 5 منصوبوں کی منظوری دی ہے، جس میں سے ایک اننت ناگ، بیج بہاڑہ، پہلگام ریلوے لائن بھی ہے۔

اس منصوبے کی زد میں آکر کشمیر کی 686 ایکڑ زمین تباہ و برباد ہوجائے گی۔ کیونکہ یہ پٹری بچھانے کےلیے جس زمین کا انتخاب کیا گیا ہے وہ سیبوں کے باغات کے لیے انتہائی زرخیز ہے، جو اس خطے کے سب سے مشہور چیز ہے۔ اور مقامی کسانوں سے جبرا ان کی زمین ہتھیالی جائے گی۔

سیبوں کی کاشتکاری مقبوضہ کشمیر میں روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جس سے تقریباً 35 لاکھ کسانوں کا روزگار جڑا ہے، جو خطے کی آبادی کا 27 فیصد بنتے ہیں۔ کشمیر کی جی ڈی پی میں سیبوں کی برآمد کا 8 فیصد سے زیادہ حصہ ہے۔

ضلع اننت ناگ کے علاقے بیج بہاڑہ میں اپنے باغ میں کام کرنے والے محمد شفیع نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ روز قبل ان کے باغ میں فوج اور پولیس کے ہمراہ نامعلوم افراد بلااجازت گھس آئے۔ انہوں نے خود کو سرکاری عملہ ظاہر کرکے ان کی زمین کی پیمائش لی اور بتایا کہ یہاں پٹری بچھائی جائے گی اور سڑک بھی تعمیر کی جائے گی۔ شفیع نے کہا کہ ہمیں احتجاج کی بھی اجازت نہیں، ہم بے یار و مددگار رہ گئے۔

زمینوں کو جبری تحویل میں لینے کے خلاف کشمیر میں متعدد احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔ سیبوں کا پیالہ کہلائے جانے والے علاقے شوپیان میں 25 سالہ وامق نے کہا کہ یہاں پہلے ہی روزگار کی کمی ہے اور اب مودی سرکار ہمارے پاس موجود واحد ذریعہ سیبوں کی کاشت سے بھی محروم کر رہی ہے، ہمارے پاس کسی دوسرے کام کی مہارت نہیں ہے، ہم نہیں جانتے کہ اس کام کے بغیر کیسے زندہ رہنا ہے اور اس زمین کے عوض کتنا ہی پیسہ کیوں نہ دے دیا جائے وہ اس نقصان کی تلافی نہیں کرسکتا۔

انہوں نے مزید کہا، اگر وہ ہماری زمین چھین لیں گے تو ہم بالآخر بھوک سے مر جائیں گے اس لیے اپنی زمین کے لیے لڑتے ہوئے مرنا زیادہ بہتر ہے۔

دوسری طرف بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس پٹری کے ذریعے کشمیر کا باقی ملک سے رابطے کو بہتر بنایا جائے گا۔ وادی کشمیر میں قومی شاہراہ اکثر موسم گرما اور موسم سرما میں برف باری کے دوران لینڈ سلائیڈنگ اور پتھروں کے گرنے سے بند ہو جاتی ہے، جس سے اس کا رابطہ ملک کے باقی حصوں سے منقطع ہو جاتا ہے۔ لہذا پٹری بچھانے سے رابطہ سارا سال بحال رہے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔