عمران خان سے جیل میں ملاقات؛ امریکی مؤقف سامنے آگیا

ویب ڈیسک  جمعـء 12 اپريل 2024
وزارت خارجہ کی پریس بریفنگ میں ایک صحافی نے پاکستانی الیکشن میں دھاندلی سے متعلق بھی سوال کیا، فوٹو: فائل

وزارت خارجہ کی پریس بریفنگ میں ایک صحافی نے پاکستانی الیکشن میں دھاندلی سے متعلق بھی سوال کیا، فوٹو: فائل

 واشنگٹن: امریکی وزارت خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں پاکستان کی موجودہ صورت حال موضوع بحث رہی۔ صحافیوں نے امریکی سفارت کاروں کی جیل میں عمران خان سے ملاقات، حالیہ الیکشن میں مینڈیٹ کے چوری ہونے کے الزامات سمیت اہم معاملات پر سوالات کیے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان نے اقرار کیا تھا کہ موجودہ حکومت نے مینڈیٹ چرایا ہے اس لیے بنیادی طور پر شہباز شریف کو وزیراعظم نہیں ہونا چاہیے تھا۔

صحافی نے امریکی ترجمان میتھیو ملر سے پوچھا کہ کیا آپ شاہد خاقان عباسی کی اس بات سے متفق ہیں؟

جس پر امریکی ترجمان میتھیو ملر نے مختصراً جواب دیا کہ آپ نے مجھے اس پلیٹ فارم سے بارہا یہ کہتے سنا ہوگا کہ پاکستان میں حکومت کے بارے میں فیصلہ پاکستانی عوام خود کریں گے۔

صحافی نے مزید کہا کہ چند روز قبل اسلام آباد کے سفارت خانے کے امریکی اہلکار نے ظاہر جعفر نامی اس پاکستانی نژاد امریکی شخص سے ملنے گئے جسے اپنی گرل فرینڈ کے بہیمانہ قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔

صحافی نے پوچھا کہ امریکی سفارتی اہلکار ظاہر جعفر سے ملنے اڈیالہ جیل گئے جب کہ نزدیک ہی بیرک میں سابق وزیراعظم عمران خان بھی قید ہیں لیکن اُن سے ملاقات کیوں نہیں کی گئی جب کہ پاکستانی نژاد امریکیوں نے بارہا اس کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اس سوال کے جواب میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ سوال کا جواب پاکستان میں امریکی سفارت خانہ زیادہ بہتر طور پر دے سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ متعدد امریکی ارکان اسمبلی اور رہنماؤں نے پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں سے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔