بونیر میں آپریشن کے دوران انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک، پاک فوج کے 2 جوان شہید

ویب ڈیسک  ہفتہ 13 اپريل 2024
حکومت نے دہشت گرد سلیم عرف ربانی کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی تھی۔

حکومت نے دہشت گرد سلیم عرف ربانی کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی تھی۔

بونیر: سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع بونیر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جس کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں دہشت گردوں کا سرغنہ سلیم عرف ربانی ہلاک اور 2 دہشت گرد زخمی ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد سلیم عرف ربانی سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں اوربے گناہ شہریوں کی بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ میں بھی سرگرم رہا۔ دہشت گرد سلیم عرف ربانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھا اور حکومت نے اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی تھی۔

آپریشن کے دوران مٹی کے دو بہادر بیٹے وطن پر قربان ہوگئے۔ لانس حوالدار مدثر محموداور لانس نائیک حسیب جاویدنے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

لانس حوالدار مدثر محمود شہید کا تعلق ضلع راولپنڈی سے ہے جنہوں نے16 سال تک پاکستان آرمی میں رہتے ہوئے ملک کے دفاع کی ذمہ داریاں سر انجام دیں۔

لانس نائیک حسیب جاوید شہید کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ سے ہے جنہوں نے 5 سال تک پاکستان آرمی میں رہتے ہوئے ملکی دفاع کی ذمہ داریاں سر انجام دیں۔

نماز جنازہ ادا

بعد ازاں 13 اپریل 2024 کو خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر میں دہشتگردوں کیخلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے لانس حولدار مدثر محمود شہید (عمر، 36 سال، ساکن ضلع راولپنڈی) اور لانس نائیک حسیب جاوید شہید (عمر، 27 سال، ساکن ضلع پونچھ آزاد کشمیر) کی نماز جنازہ بونیر میں ادا کردی گئی۔

شہداء کی نماز جنازہ میں پاک فوج کے سینئر افسران و جوان, مقامی لوگوں اور پولیس کے عہدیداران نے شرکت کی جس کے بعد شہداء کے جسد خاکی آبائی علاقوں کو روانہ کردیئے گئے۔ جہاں انھیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ ہمارے شہداء کی یہ قربانیاں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہمارے عزم اور مادر وطن سے محبت کو تقویت دیتی ہیں، دہشت گردی کیخلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔