آئرلینڈ، اسپین اور ناروے کا جلد ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ

ویب ڈیسک  ہفتہ 13 اپريل 2024
آئرلینڈ جلد ہی فلسطین کو تسلیم کرنا چاہتا ہے، یہ کام اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ مل کر کریں گے، آئرش وزیراعظم

آئرلینڈ جلد ہی فلسطین کو تسلیم کرنا چاہتا ہے، یہ کام اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ مل کر کریں گے، آئرش وزیراعظم

ڈبلن: آئرلینڈ، ناروے اور اسپین کی جانب سے جلد ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا امکان ہے۔

آئرلینڈ اور ناروے کے رہنماؤں نے فلسطین کے پرجوش حامی اسپینش وزیراعظم پیڈرو سانچیز سے ملاقات کی جس کے بعد انہوں نے یہ عندیہ دیا۔

آئرلینڈ کے وزیراعظم سائمن ہیرس نے ڈبلن میں پیڈرو سانچیز سے ملاقات کی جس کے بعد انہوں نے کہا کہ آئرلینڈ جلد ہی فلسطین کو تسلیم کرنا چاہتا ہے، لیکن وہ یہ کام اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ مل کر کرے گا۔

اس سے قبل اسپینش وزیراعظم پیڈرو سانچیز ناروے کے دارالحکومت اوسلو پہنچے جہاں انہوں نے نارویجن وزیراعظم جوناس گہر اسٹور سے ملاقات کی، جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جوناس گہر اسٹور نے کہا کہ ان کا ملک بھی “ہم خیال ممالک” کے ساتھ مل کر فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے “تیار” ہے۔

اس موقع پر اسپینش وزیراعظم پیڈرو سانچیز کا کہنا تھا کہ اسپین فلسطین کو “جلد سے جلد” تسلیم کرنا چاہتا ہے، تاکہ اس اقدام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں یقینی امن کا حصول حاصل ممکن بنایا جاسکے۔

واضح رہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے بڑھتی ہوئی اموات، فاقہ کشی اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں اسرائیل کیخلاف بین الاقوامی تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔ یورپ میں بھی غزہ اور اسرائیل کے بارے میں لوگوں کے مؤقفات تبدیل ہوئے ہیں اور مزید ممالک فلسطین کو تسلیم کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ فلسطینی حقوق کے پرجوش حامی اسپین اور آئرلینڈ نے مالٹا اور سلووینیا کے ساتھ مل کر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ “فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں” لیکن “حالات درست” ہونے پر یہ قدم اٹھایا جائے گا۔

اسپینش وزیراعظم سانچیز سے ملاقات کے بعد آئرلینڈ کے وزیراعظم سائمن ہیریس نے کہا، “مجھے یہ کہنے دیجئے کہ وہ لمحہ بہت قریب آرہا ہے اور ہم ایسا کرنے کے لیے مل کر آگے بڑھنا چاہیں گے۔”

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔