زہر دیے جانے کا خدشہ؛ بشریٰ بی بی کی شوکت خانم اسپتال سے معائنے کیلیے درخواست

ویب ڈیسک  پير 15 اپريل 2024
(فوٹو: فائل)

(فوٹو: فائل)

 اسلام آباد: بشریٰ بی بی نے خود کو زہر دیے جانے کے خدشے کے پیش نظر شوکت خانم اسپتال میں طبی معائنہ کرانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

سابق وزیراعظم اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خوراک میں مبینہ طور پر زہر دیے جانے کے خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے شوکت خانم اسپتال سے طبی معائنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی ہے۔

سابق خاتون اول کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ اور عدت میں نکاح کےکیسز میں گھسیٹا گیا۔ بشریٰ بی بی بنی گالہ سب جیل میں قید ہیں۔بنی گالہ سب جیل بشریٰ بی بی کی زندگی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

درخواست میں بتایا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی خوراک میں ہائیڈرو کلورک ایسڈ کے نشانات ملے ہیں۔ زہر دیے جانے کے خدشے کے پیش نظر میری صحت پر اثر ہو سکتا ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ شوکت خانم یا کسی مرضی کے پرائیویٹ اسپتال سے ٹیسٹ کرانے کی اجازت دی جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ سب جیل میں زیادہ تر مرد اہلکاروں کی تعیناتی اور صرف ایک خاتون اہلکار کی تعیناتی کی گئی ہے۔ سب جیل میں مرد اہلکاروں کی اکثریت بشریٰ بی بی کے لیے ذہنی اذیت کا باعث ہے۔ بشریٰ بی بی کے کمرے میں آڈیو بگز اور خفیہ کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جو ان کی پرائیویسی کے خلاف ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی سے اہل خانہ اور وکلا کی ملاقات کا دورانیہ صرف 10 منٹ رکھا گیا ہے۔ اہل خانہ اور وکلا کو ملاقات کے لیے آتے ہوئے 30 سے 40 منٹ انتظار کرایا جاتا ہے۔ بشریٰ بی بی کو دیے گئے کھانے سے گلے اور منہ میں شدید جلن کا سامنا رہتا ہے۔ بشریٰ بی بی سمجھتی ہیں کہ ان کو کھانے میں کسی قسم کا تیزاب ملا کر دیا جاتا ہے۔

عدالت میں دائر درخواست میں بتایا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست بھی دائر کی ہے کیونکہ وہ بنی گالہ میں خود کو محفوظ تصور نہیں کرتیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فریقین کو آئین پاکستان کے تحت بشریٰ بی بی کو حاصل بنیادی حقوق کی پاسداری کا حکم دیا جائے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔