جوائن کرنے کے چند ماہ بعد ہی اکثر لوگ ملازمت کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟

ویب ڈیسک  بدھ 24 اپريل 2024
[فائل-فوٹو]

[فائل-فوٹو]

 ممبئی: ایک بھارتی کمپنی کے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والی خاتون نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ان وجوہات کا ذکر کیا ہے جن کی وجہ سے اکثر ملازم نوکری جوائن کرنے کے چند مہینوں یا 1 سال بعد ملازمت چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی پوار نامی خاتون جو Impact Infotech پرائیویٹ لمیٹڈ میں HR ایگزیکٹو ہیں، نے LinkedIn پر وجوہات کی ایک فہرست شیئر کی جو ملازم کو نئی ملازمت کے 6 ماہ یا ایک سال کے بعد ہی استعفیٰ دینے پر مجبور کردیتی ہیں۔

خاتون نے لکھا کہ ملازمین نوکری چھوڑنے کے لیے کمپنی جوائن نہیں کرتے۔ کوئی بھی بار بار نوکری تبدیل کرنا پسند نہیں کرتا بلکہ ماحول انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

بھارتی نے لکھا کہ پہلی وجہ ادارے کا تناؤ بھرا ماحول ہے جہاں ذہنی سکون میسر نہ ہو، دوسرا کم تنخواہ، تیسرا بلا معاوضہ اوور ٹائم، چوتھا طاقت سے زیادہ کام کا دباؤ، پانچواں اقربا پروری اور چھٹی وجہ سیاست ہے۔

انہوں نے لکھا کہ یہ وہ وجوہات ہیں جس کے وجہ سے اکثر لوگ جوائن کرنے کے چند ماہ بعد ہی نوکری کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔

شیئر کیے جانے کے بعد سے پوسٹ پر 1,300 سے زیادہ ردعمل اور متعدد تبصرے کیے جاچکے ہیں۔ کچھ صارفین نے ایچ آر ایگزیکٹو سے اتفاق کیا اور دوسروں نے اپنی اپنی رائے شیئر کیں۔

ایک صارف نے جواب میں لکھا کہ ہر کمپنی کو جوائن کرنے سے پہلے Glassdoor پر اچھی طرح جانچنا چاہیے۔ (گلاس ڈور ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس پر ملازمین اور آجر کمپنیوں کے بارے میں رائے کا اظہار کرتے ہیں)۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ نوکری سے نکالنے کا حق صرف آجروں کو ہی کیوں ہو؟ یہ حق ملازمین کے پاس بھی ہونا چاہیے۔ اس نے مزید لکھا کہ بدمعاش آجروں کے خلاف سخت قوانین یا اقدامات ہونے چاہئیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔