امریکی سیکریٹری اسٹیٹ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے

ویب ڈیسک  بدھ 24 اپريل 2024
امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کی چینی صدر سے ملاقات کا بھی امکان ہے—فوٹو: رائٹرز

امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کی چینی صدر سے ملاقات کا بھی امکان ہے—فوٹو: رائٹرز

شنگھائی: امریکا کی جانب سے تائیوان کے لیے امدادی پیکیج کی منظوری کے بعد چین کے ساتھ کشیدگی کے خدشات کے دوران امریکی سیکریٹری اسٹیٹ انٹونی بلنکن سرکاری دورے پر شنگھائی پہنچ گئے۔

غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی سیکریٹری اسٹیٹ انٹونی بلنکن ایک ایسے وقت میں شنگھائی پہنچ گئے ہیں جب امریکا اور چین کے درمیان تعلقات حل طلب معاملات کی خرابی کے باعث عدم استحکام کے خطرات سے دوچار ہیں تاہم اس دورے کے ذریعے بہتری کی کوشش کی جارہی ہے۔

انٹونی بلنکن دورے میں جمعے کو اپنے چینی ہم منصب وزیرخارجہ وانگ یی سے ملاقات کے لیے بیجنگ روانہ سے قبل کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے اور بیجنگ میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات بھی متوقع ہے۔

امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کا دورہ چین دونوں حریف ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطوں کی تازہ مثال ہے، اس کے علاوہ ورکنگ گروپس، فوجی وفود کا تبادلہ ہوتا رہا ہے لیکن گزشتہ برس کے شروع میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے۔

چین اور امریکا کے حکام کی جانب سے تعلقات میں بہتری کے لیے معمولی پیش رفت کے باوجود تائیوان اور یوکرین میں جنگ پر روس کی حمایت پر دونوں ممالک کے درمیان اختلاف شدید تر ہوچکے ہیں۔

سنگاپور میں لی کوان یو اسکول آف پبلک پالیسی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ایلفریڈ وو نے کہا کہ دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں واضح بہتری کا امکان بہت کم ہے تاہم دونوں ممالک ناخوش گوار حالات سے بچنے کے لیے رابطے بحال رکھنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ انٹونی بلنکن کے دورہ چین سے قبل امریکی ایوان میں تائیوان کے لیے فوجی امداد کے بل کی منظوری دی جاچکی ہے، جس میں چینی کمپنی ٹک ٹاک پر پابندی بھی شامل ہے۔

اس سے قبل امریکی سیکریٹری خزانہ جییٹ یلین نے رواں ماہ کے شروع میں بیجنگ کا دورہ کیا تھا اور صنعتی مرکز جنوبی شہر گوانگژو بھی گئے تھے اور گزشتہ ہفتے سیکریٹری دفاع لائیوڈ آسٹن نے ڈیڑھ سال کے طویل عرصے بعد اپنے چینی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا۔

امریکا کی جانب سے چین کے ساتھ رابطے بحال کرنے کی کوششوں میں صدر جوبائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلووان کے چینی وزیرخارجہ وانگ یی سے رابطے بھی شامل ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔