"یہ ناقابل قبول ہے"، ماہرہ خان کا لٹریچر فیسٹیول واقعے پر بیان آگیا

ویب ڈیسک  جمعرات 16 مئ 2024
ماہرہ خان حملے کے بعد خوفزدہ نظر آئیں : فوٹو : اسکرین گریب

ماہرہ خان حملے کے بعد خوفزدہ نظر آئیں : فوٹو : اسکرین گریب

 کوئٹہ: پاکستانی شوبز انڈسٹری کی صفِ اول اداکارہ ماہرہ خان نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں پیش آنے والے واقعے پر اپنا بیان جاری کردیا۔

ماہرہ خان نے اپنے آفیشل انسٹاگرام ہینڈل پر اپنی ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ کوئٹہ میں ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں شائقین سے تقریر کررہی ہیں۔

اداکارہ نے اپنی پوسٹ کے ساتھ طویل نوٹ بھی جاری کیا جس میں اُنہوں نے فیسٹیول میں اُن پر ہجوم کی جانب سے چیزیں پھینکنے پر بات کی۔

اُنہوں نے کہا کہ تقریب میں جو کچھ بھی ہوا وہ غیرضروری اور ناقابلِ قبول تھا، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اسٹیج پر کچھ پھینکنا غلط ہے چاہیے وہ کاغذ کے جہاز میں لپٹا ہوا پھول ہی کیوں نہ ہو۔

ماہرہ خان نے کہا کہ بعض اوقات، میں ایسے واقعات پر خوفزدہ ہوجاتی ہوں، ناصرف اپنے لیے بلکہ تقریب میں موجود دیگر ہجوم کے لیے بھی ڈر جاتی ہوں کیونکہ کسی بھی ایک بدمعاش کی وجہ سے صورتحال سنگین ہوسکتی ہے۔

اداکارہ نے کہا کہ تقریب سے واپسی پر کسی نے کہا کہ اب کوئٹہ میں دوبارہ کوئی فیسٹیول نہیں ہوگا تو میں نے اُن کی بات سے اختلاف کیا کیونکہ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے، تقریب میں 10 ہزار شائقین موجود تھے جنہوں نے اپنی محبت دکھائی، اُن میں صرف ایک بدمعاش تھا جس نے یہ حرکت کی تو ہم اُس کی وجہ سے اپنا کام نہیں روک سکتے۔

مزید پڑھیں: پاکستان لٹریچر فیسٹول میں ماہرہ خان پر حملہ، ویڈیو وائرل

انہوں نے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہمیں پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی مزید تقریبات منعقد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اس طرح کی تقریبات کے آداب سیکھ سکیں۔

آخر میں ماہرہ خان نے کوئٹہ کے شہریوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں انتہائی حیرت انگیز لوگوں سے ملی، ہم نے کوئٹہ کے خوبصورت موسم میں لذیذ کھانے کھائے۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ مجھے کوئٹہ سے پیار ہے اور میں انشاء اللہ دوبارہ بھی کوئٹہ آؤں گی۔

واضح رہے کہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں ماہرہ خان کی تقریر کے دوران ہجوم کی جانب سے اداکارہ پر کوئی نامعلوم چیز پھینکی گئی تھی۔

ماہرہ خان نے اپنی تقریر روکی اور شائقین سے شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کی طرف نامعلوم چیزیں پھینکی جارہی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔