فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر از خود نوٹس، سپریم کورٹ میں سماعت آج ہوگی

ویب ڈیسک  جمعـء 17 مئ 2024
فوٹو فائل

فوٹو فائل

 اسلام آباد: سپریم کورٹ  آف پاکستان نے سینیٹر فیصل واوڈا کی گزشتہ روز عدلیہ سے متعلق کی جانے والی دھواں دھار پریس کانفرنس پر از خود نوٹس لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کی گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار اور عدلیہ کے حوالے سے کی جانے والی پریس کانفرنس کا از خود نوٹس لیا۔

رجسٹرار سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس سربراہی میں جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل تین رکنی بینچ فیصل واوڈا ازخود نوٹس کیس کی سماعت  آج ساڑھے نو بجے کرے گا، عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدلیہ میں مداخلت کا ثبوت ہے تو پیش کریں، ورنہ ابہام بڑھ رہا ہے، شواہد یا ثبوت کے بغیر عدالت کارروائی نہیں کرتی، میری پگڑیاں اچھالی گئیں اب پاکستان کی پگڑی جو اچھالے گا ان کی پگڑیوں کا فٹ بال بنائیں گے، اداروں کو نشانہ بنانا بند کریں کافی ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پگڑیوں کو فٹبال بنانے کا کہہ کر کیا پراکسیز کے ذریعے ہمیں دھمکایا جارہا ہے؟ سپریم کورٹ

نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیاست دان اگر دہری شہریت نہیں رکھ سکتا تو جج کیسے دہری شہریت کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ جسٹس منصور شاہ اور جسٹس عائشہ احد کے سامنے بیٹھ کر آپ کا سینہ چوڑا ہو جاتا ہے، اطہر من اللہ بہت اصول پسند آدمی ہیں۔ وہ نہ حماقت کرتے ہیں نہ کرنے دیں گے۔ میرا گمان ہے جسٹس اطہرمن اللہ کسی سے نہیں ڈرتے، نہ کسی سے ملتے ہیں۔ وہ کسی سیاسی جماعت کے نمائندے سے بھی نہیں ملتے۔ وہ شہ سرخیوں کیلئے فیصلہ نہیں کرتے۔ رات کے اندھیروں میں کسی سے نہیں ملتے۔ اطہر من اللہ جیسے تاریخی جج سے ایسی غلطی نہیں ہو سکتی۔ ضمانتیں آپ دیتے ہیں، بہت کچھ جانتا ہوں، بہت کچھ سمجھتا ہوں، راز ہیں، شواہد ہیں اور میرا ہوم ورک ہے۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ چھٹی کے دن جسٹس بابر ستار کی جانب سے پریس ریلیز آتی ہے،30اپریل کو میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو خط لکھا، جج بننے سے پہلے جسٹس بابر ستار نے اس وقت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو رپورٹ کیا۔ اس کی کوئی قانونی چیز ہو گی جو ہمیں نہیں مل رہی، آرٹیکل 19 اے  کے تحت ہر پاکستانی انفارمیشن لے سکتا ہے مگر نہیں دی جارہی جس کیوجہ سے ابہام بڑھ رہا ہے اور ایک سال پہلے کیوں یہ سب نہیں نہیں بتایا گیا، اب آپ (عدلیہ) کو شواہد دینا پڑیں گے، اگر معاملہ جج بننے سے پہلے کا ہے اور ریکارڈ نہیں ہے تو پھر سوالات ہوں گے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کو مداخلت کرنا ہو گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اعتراض نہیں کہ وہ میڈیا پر تجزیہ دیتے تھے، دہری شہریت ہو تو مجھے کوئی ایشو نہیں۔ اگر الزام لگانے والے کے پاس ثبوت نہیں تو اداروں پر الزام نہ لگائیں، اگر شواہد نہیں ہیں، سب زبانی ہے تو پھر مسئلہ ہے۔ پندرہ دن گزر گئے، ہمیں ریکارڈ نہیں مل رہا۔ پاکستان کسی کے باپ کا نہیں ہے۔ جو میرے لئے ہو گا وہ سب کے لئے ہو گا۔ آپ نے سوشل میڈیا پر نوٹس لیا ، آپ کو دیگر معاملات، کراچی اور پنجاب میں ریپ کا نوٹس لینا چاہئے تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے خود احتسابی کی بات کی ہے تو ہمیں خوش ہونا چاہئے، سستی روٹی پر حکم امتناع، نسلہ ٹاور کی شنوائی نہیں۔ ریکوڈک پر اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، کس قانون کے تحت زرداری کو 14 سال جیل ہوئی؟۔ بلیک لا ڈکشنری کے تحت تنخواہ نہ لینے پر نواز شریف کو سزا دی ، پی آئی اے اسٹے آرڈر، سستی روٹی اسٹے آرڈر کب تک ایسا چلتا رہے گا۔ سیاست دان اگر دہری شہریت نہیں رکھ سکتا تو جج کیسے دہری شہریت کے ساتھ بیٹھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عدلیہ میں مداخلت کا ثبوت ہے تو پیش کریں، فیصل واوڈا

فیصل واوڈا نے مزید کہا تھا کہ آئین اور قانون میں کہاں لکھا ہے کہ جنہوں نے قربانیاں دیں ان کا تمسخر اڑایا جائے۔ امید ہے کہ جواب جلد آئے گا، محاذ آرائی سے دو ررہیں۔ ان کاموں کا کوئی فائدہ نہیں۔ اپنی ذات نہیں سارے پاکستان کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگائیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ 30 اپریل کواسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو خط لکھا مگر 15 روزہوگئے کوئی جواب نہیں آیا، جسٹس بابرستار کو ایک سال بعد چیزیں یاد آرہی ہیں۔ صرف الزمات سے کام نہیں چلے گا اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے۔ اگر الزامات کا ریکارڈ نہیں توتشویش ہوگی۔ پردوں کے پیچھے باتیں نہ کریں۔اگرفوج نہیں ہوگی تو پاکستان بھی نہیں بچے گا، شہادتوں کی وجہ سے ہم یہاں بیٹھے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔