جاپان میں ریکونز نے تباہی مچادی

ویب ڈیسک  پير 20 مئ 2024
[فائل-فوٹو]

[فائل-فوٹو]

 ٹوکیو: جاپان میں ریکون کی بڑھتی آبادی نے خطرناک صورت اختیار کرلی ہے جس کی وجہ سے ماحولیات اور معیشت کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

جاپانی نیوز کے مطابق، ٹوکیو کی حکومت نے کہا کہ 2022 کے دوران صرف ٹوکیو سے ہی تقریباً 1,300 ریکون پکڑے گئے ہیں. یہ تعداد 10 سال قبل پکڑی جانے والی تعداد سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

اسی طرح جاپانی حکومت نے ریکون کو درانداز جانور کے طور پر قرار دیا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت اور اس حوالے سے سخت اقدامات کیے جانے کا بھی اعادہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ریکون جاپان کا مقامی جانور نہیں ہے۔ 1977  میں ایک جاپانی کارٹون مشہور ہوا تھا جس کا نام ’Rascal the Raccon‘ تھا۔ اس کی مقبولیت کے بعد 1970 کی دہائی میں انہیں درآمد کیا جانے لگا۔

یہ کارٹون اتنا مقبول تھا کہ جاپانی عوام دوسرے ممالک سے اسے آرڈر کرتے تھے اور انہیں پالتو جانور کے طور پر اپنے گھروں جگہ دیتے تھے۔ تاہم کچھ ہی عرصے میں ریکون نے اپنی ضدی اور شیطانی حرکتوں کی وجہ سے شہریوں کی ناک میں دم کردیا اور بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچانے لگے۔

جب جاپانی حکومت کو اس خطرے کا احساس ہوا تو حکومت نے کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ ریکون کی آبادی میں اضافہ پریشان کُن صورت اختیار کرچکا تھا۔

مقامی ذرائع کے مطابق املاک اور ماحولیات کو پہنچنے والے نقصانات کے علاوہ ریکون نے ملک کی زرعی صنعت کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ 2022 میں ریکون نے فصلوں کو تقریباً 30 لاکھ ڈالرز کا نقصان پہنچایا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔