نیتن یاہو کے ممکنہ وارنٹِ گرفتاری؛ امریکا کا ردعمل سامنے آگیا

ویب ڈیسک  بدھ 22 مئ 2024
عالمی عدالت کے پراسیکیوٹر نے اسرائیلی وزیراعظم، وزیر دفاع سمیت حماس رہنماؤں کے وارنٹِ گرفتاری کیلیے درخواست کی تھی  (فوٹو: رائٹرز)

عالمی عدالت کے پراسیکیوٹر نے اسرائیلی وزیراعظم، وزیر دفاع سمیت حماس رہنماؤں کے وارنٹِ گرفتاری کیلیے درخواست کی تھی (فوٹو: رائٹرز)

 واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ بین الااقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم اور وزیردفاع کے ممکنہ وارنٹِ گرفتاری کے اقدام کا جواب دینے کے لیے ایوان نمائندگان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکا عالمی فوجداری عدالت کا رکن نہیں لیکن اس نے ماضی کے مقدمات کی حمایت کی ہے، جس میں گزشتہ برس یوکرین کی جنگ پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تاہم فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیرعظم کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے تو اس کی حمایت نہیں کریں گے کیوں کہ اس سے اسرائیل حماس جنگ بندی معاہدہ تعطل کا شکار ہوسکتا ہے۔

وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے مزید کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کی درخواست کا جواب دینے کے لیے کانگریس (ایوان نمائندگان) کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں پراسیکیوٹر نے اسرائیلی وزیراعظم، وزیر دفاع سمیت حماس کے تین رہنماؤں کے وارنٹِ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔