پاکستانی فیشن انڈسٹری کے 80 فیصد آدمی ہم جنس پرست ہیں، ماریہ بی کا دعویٰ

ویب ڈیسک  جمعرات 23 مئ 2024
ماریہ اکثر سوشل میڈیا کے ذریعے ہم جنس پرستی کے خلاف آواز اُٹھاتی ہیں : فوٹو : فائل

ماریہ اکثر سوشل میڈیا کے ذریعے ہم جنس پرستی کے خلاف آواز اُٹھاتی ہیں : فوٹو : فائل

  کراچی: پاکستانی فیشن انڈسٹری کی معروف ڈیزائنر ماریہ بی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی فیشن انڈسٹری میں موجود 80 فیصد مرد ہم جنس پرست (ایل جی بی ٹی کیو) ہیں۔

ماریہ بی نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ کے دوران پاکستان میں ہم جنس پرست افراد کے بارے میں کُھل کر بات کی جس کا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔

پوڈکاسٹ کے میزبان نے ماریہ بی سے سوال کیا کہ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں ٹرانس جینڈرز کے معاملے پر زیادہ بات کیوں کررہی ہیں؟ جس پر فیشن ڈیزائنر نے کہا کہ یہ سب میری برداشت سے باہر ہوگیا تھا، اسی لیے میں نے اس معاملے پر بات کرنا شروع کی۔

ماریہ بی نے کہا کہ مجھے زیادہ غصہ اُس وقت آیا جب کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر آکر یہ کہنا شروع کیا کہ ہمارے مذہب اسلام میں تو سب جنسی رجحانات جائز ہیں، یہ بات سُن کر میں نے ہم جنس پرستی کے خلاف بولنا شروع کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں تقریباََ 27 بار قومِ لوط کا ذکر کیا ہے اور ہمارے یہاں لوگ ہم جنس پرستی کے معاملے کو چھوٹا اور غیر اہم سمجھتے ہیں۔

ماریہ بی نے کہا کہ پہلے ہم جنس پرست افراد اپنے گھروں تک محدود تھے لیکن اب یہ کُھل کر سامنے آرہے ہیں، اسی وجہ سے میں نے اس معاملے پر بات کرنا ضروری سمجھا۔

اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فیشن انڈسٹری کے تقریباََ 80 فیصد مرد ہم جنس پرست (ایل جی بی ٹی کیو) ہیں۔

ماریہ بی نے مزید کہا کہ فیشن انڈسٹری میں شروعات سے ہی ایسے لوگ (ہم جنس پرست) موجود تھے لیکن اب یہ لوگ سوشل میڈیا پر آکر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں کہ اسلام میں ہم جنس پرستی جائز ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔