کورٹ رپورٹنگ پر پابندی لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

ویب ڈیسک  جمعرات 23 مئ 2024
درخواست میں وفاقی حکومت اور انفارمیشن سیکریٹری کو فریق بنایا گیا ہے:فوٹو:فائل

درخواست میں وفاقی حکومت اور انفارمیشن سیکریٹری کو فریق بنایا گیا ہے:فوٹو:فائل

 لاہور: کورٹ رپورٹنگ پر پابندی کو لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

پیمرا کی جانب سے کورٹ رپورٹنگ پر پابندی کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں ثمرہ ملک ایڈووکیٹ نے چیلنج کیا۔ درخواست میں پیمرا ، وفاقی حکومت اور انفارمیشن سیکریٹری کوفریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ پیمرا کا 21 مئی کو جاری کردہ نوٹفکیشن غیر قانونی ہے۔ پیمرا کا نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت پیمرا کا نوٹیفکیشن کلعدم قرار دے اور پٹیشن کے حتمی فیصلہ تک پیمرا کا نوٹیفکیشن معطل کرے۔

اسی طرح عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی کا پیمرا کا نوٹی فکیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا۔

پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے نوٹی فکیشن کے خلاف درخواست دائر کر دی۔ پریس ایسوسی ایشن اور ہائی کورٹ ایسوسی ایشن کے صدور عقیل افضل اور فیاض محمود نے درخواست دائر کی۔

بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی اور صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ریاست علی آزاد کے ذریعے درخواست دائر کی گئی جس میں پیمرا نوٹی فکیشن کے خلاف درخواست میں سیکریٹری اطلاعات اور چیئرمین پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ رپورٹرز کی نمائندہ تنظیمیں ہیں، پیمرا نے 21 مئی کو ترمیمی نوٹی فکیشن کے ذریعے عدالتی رپورٹنگ سے متعلق ہدایات جاری کیں، پیمرا کا نوٹی فکیشن آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی ہے۔

متن میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی پیمرا کے نوٹی فکیشن میں غلط تشریح کی گئی، پیمرا کا نوٹی فکیشن غیرآئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے، درخواست پر حتمی فیصلے تک پیمرا کا نوٹی فکیشن معطل کیا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔