"چاہت فتح کیساتھ گانے 'اکھ لڑی بدوبدی' میں کام کرنا سب سے بڑی غلطی تھی"

ویب ڈیسک  ہفتہ 25 مئ 2024
گزشتہ ماہ یوٹیوب پر چاہت فتح علی خان کا گانا 'اکھ لڑی بدوبدی' ریلیز کیا گیا تھا : فوٹو : ویب ڈیسک

گزشتہ ماہ یوٹیوب پر چاہت فتح علی خان کا گانا 'اکھ لڑی بدوبدی' ریلیز کیا گیا تھا : فوٹو : ویب ڈیسک

 لاہور: سوشل میڈیا پر اپنے بےسُرے گانوں کی وجہ سے شہرت پانے والے خود ساختہ گلوکار چاہت فتح علی خان کے ساتھ وائرل گانے ‘اکھ لڑی بدوبدی’ میں ماڈلنگ کرنے والی وجدان راؤ نے کہا ہے کہ اس گانے میں کام کرنا اُن کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

 

گزشتہ ماہ یوٹیوب پر چاہت فتح علی خان کا گانا ‘اکھ لڑی بدوبدی’ ریلیز ہوا تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان سمیت بھارت میں بھی خوب وائرل ہوگیا اور صرف ایک ماہ کے اندر اس گانے کی یوٹیوب ویڈیو پر 20 ملین ویوز آچکے ہیں۔

چاہت فتح علی کا یہ گانا سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر ٹرینڈ بھی بن گیا ہے جبکہ گانے پر مزاحیہ میمز بھی بنائی جارہی ہیں جوکہ خوب وائرل ہورہی ہیں۔

اس گانے میں چاہت فتح علی خان کے ساتھ جلوہ گر ہونے والی ماڈل وجدان راؤ نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو کے دوران اعتراف کیا کہ گانا ‘اکھ لڑی بدوبدی’ میں کام کرنا اُن کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی جس کے لیے وہ بہت پچھتا رہی ہیں۔

وجدان راؤ نے کہا کہ میں اس گانے سے پہلے بھی چاہت فتح علی خان کے ساتھ پانچ گانے ریکارڈ کروا چکی ہیں جن میں سے چار گانوں کے لیے میں نے اپنی ویڈیو بناکر چاہت فتح علی خان کو لندن بھیجی تھی، پھر گلوکار نے ایڈیٹنگ کے ذریعے مجھے اپنے گانوں کا حصہ بنایا تھا جبکہ ایک گانے کی شوٹنگ گلوکار کے ساتھ ہی کی تھی۔

مزید پڑھیں: “بس بس! قیامت ساتھ والے موڑ پر ہے”، آغا علی بھی چاہت فتح سے تنگ

ماڈل نے کہا کہ گانا ‘اکھ لڑی بدوبدی’ کی شوٹنگ پاکستان میں ہی ہوئی اور مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ گانا اس قدر وائرل ہوجائے گا لیکن گانے کی کامیاب کے بعد سوشل میڈیا پر مجھے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا صارفین مجھے طعنے دے رہے ہیں کہ میں نے اپنے دادا کی عُمر کے شخص کے ساتھ کام کیا، لوگ میرے لیے نامناسب الفاظ کا استعمال کررہے ہیں۔

وجدان راؤ نے سوشل میڈیا صارفین کی تنقید پر آبدیدہ ہوتے ہوئے مزید کہا کہ میں نے تو لوگوں کو تفریح فراہم کرنے کے لیے چاہت فتح علی خان کے ساتھ ‘اکھ لڑی بدوبدی’ میں کام کیا تھا۔

 

 

 

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔