چین پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم شراکت دار ہے، وزیراعظم

ویب ڈیسک  منگل 28 مئ 2024
(فوٹو: فائل)

(فوٹو: فائل)

 اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم شراکت دار ہے، حکومت چینی سرمایہ کاروں کو ہرممکن سہولیات فراہم کرے گی۔

پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس وزیراعظم محمد شہباز شریف کی صدارت میں ہوا، جس میں مختلف وفاقی وزارتوں کی جانب سے پاکستان-چین دو طرفہ معاشی تعلقات کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں ۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم شراکت دار ہے۔ چینی انڈسٹری خصوصاً ٹیکسٹائل انڈسٹری کو پاکستان میں صنعتیں لگانے کی دعوت دیتے ہیں۔ پاکستان چین کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر زراعت ،انفارمیشن ٹیکنالوجی ، توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور چین میں پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت چینی صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گی۔ پاکستان میں مقیم چینی باشندوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ چینی شہریوں کی سکیورٹی کے حوالے سے جامع پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ سی پیک کے اگلے مرحلے کے حوالےسے بھرپور تیاری کر رہے ہیں۔ چینی تعاون سے گوادر بندرگاہ کو لاجسٹکس کا حب بنایا جائے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایگری کلچر ڈیمانسٹریشن زونز کا قیام سی پیک کے اگلے مرحلے کے حوالے سے اہم منصوبہ ہو گا۔ متعلقہ وزارتیں پاکستان چین کے تعاون کے نئے منصوبوں کے حوالے سے تیاری اور بزنس ٹو بزنس روابط بڑھائے کے لیے اقدامات کریں۔ برآمدات بڑھانے کے حوالے سے حکمت عملی ترتیب دینے میں سے چین پاکستان کا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اہم اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ،وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ ، وزیر پیٹرولیم مصدق ملک ، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر پاور اویس احمد خان لغاری ، وفاقی وزیر بحری امور قیصر احمد شیخ ( بذریعہ وڈیو لنک ) ، وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ،وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن جہانزیب خان اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔