آئی پی ایل، پی ایس ایل تصادم! کاؤنٹی کلبز بھی پریشان

اسپورٹس ڈیسک  بدھ 29 مئ 2024
اگلے سیزن کے آغاز میں اہم کرکٹرز کی خدمات سے محرومی کا خوف (فوٹو: ایکسپریس)

اگلے سیزن کے آغاز میں اہم کرکٹرز کی خدمات سے محرومی کا خوف (فوٹو: ایکسپریس)

  کراچی: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) اور انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے شیڈول سے تصادم ہونے کی وجہ سے کاؤنٹیز بھی پریشان ہوگئیں۔

تفصیلات کے مطابق چیمپئنز ٹرافی کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو پی ایس ایل کی تاریخیں آگے بڑھانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے جو براہ راست آئی پی ایل سے متصادم ہیں۔ پاکستان سپر لیگ کا اگلا سیزن ممکنہ طور پر 7 اپریل سے 20 مئی تک کھیلا جائے گا ، انڈین لیگ کا رواں ایڈیشن 22 مارچ سے 26 مئی تک ہوا، 2025 میں بھی تھوڑے بہت فرق سے یہی  ونڈو ہی برقرار رہے گی، جہاں پی ایس ایل اور آئی پی ایل کی تاریخیں متصادم ہورہی ہیں وہیں۔

اس کا براہ راست اثر کاؤنٹی سیزن کے  ابتدائی 2  ماہ پر پڑے گا۔ مجموعی طور پر 35 ٹاپ انگلش کرکٹرز کے پی ایس ایل اور آئی پی ایل میں جلوہ گر ہونے کا امکان ہے، اس طرح چیمپئن شپ میچز میں تجربہ کار کھلاڑی موجود نہیں ہوں گے۔

مزید پڑھیں: ’’پی ایس ایل فرنچائزز کو مستقل بنیادوں پر حقوق نہیں مل سکیں گے‘‘

دوسری جانب بڑی تعداد میں انگلش کرکٹرز کے وائٹ بال تک محدود ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے، ابھی سے ہی آئندہ برس پی ایس ایل میں شرکت کے خواہاں انگلش کرکٹرز کے اپنی کاؤنٹی کلبز کے ساتھ تناؤ کا امکان ہوچکا ہے ، کاؤنٹیز کے پلیئرز سے معاہدے میں  چیمپئن شپ کے دوران کھلاڑیوں کو صرف آئی پی ایل کیلیے ریلیز کرنے کی اجازت ہے۔

مزید پڑھیں: کیا کومیلا وکٹورینز کی اونر پی ایس ایل میں ٹیم خرید سکتی ہیں؟

ایسے انگلش کرکٹرز جو بھارتی لیگ نہیں کھیلتے وہ چیمپئن شپ میں شریک ہوتے ہیں، مگر وہ آئندہ برس  پی ایس ایل کھیلنے کے خواہاں ہیں، ان میں جورڈن کاکس، جیمز ونس، ڈین لارنس، لیوس ڈی پلوئے، اولی اسٹن اور ٹام کوہلر کیڈمور شامل ہیں، یہ  حالیہ پی ایس ایل میں بھی شریک ہوئے تھے،انھیں آئندہ  برس پاکستان لیگ کیلیے این او سی کے حصول میں اپنے کلبز کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہوگا ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔