سینیٹ اجلاس: ملک بھر میں پلاسٹک کی بوتلوں پر پابندی کی تحریک پیش

ویب ڈیسک  پير 10 جون 2024
فائل:فوٹو

فائل:فوٹو

 اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں ملک بھر میں پلاسٹک کی بوتلوں پرپابندی کی تحریک پیش کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر محسن عزیز نے 500 ملی لیٹروالی پلاسٹک کی بوتل کی تیاری پرپابندی لگانے کی تحریک ایوان میں پیش کردی اور کہا کہ پلاسٹک کی بوتلیں ماحول کو تباہ کررہی ہیں۔

پی ٹی آئی سینیٹرکا کہنا تھاکہ دنیا کے مہذب ملکوں میں اس کا استعمال ذمہ دارعمل کے ساتھ موجود ہے،دنیا میں ہرسال 13ارب بوتلوں کااستعمال ہوتاہے، 2050ء تک پلاسٹک کی بوتلوں کااستعمال اسی طرح چلتا رہا توسمندروں میں مچھلیاں پلاسٹک سے کم ہوجائیں گی، ایک اندازے کے مطابق 40-2035میں اگرہمارے مچھیرے جال پھینکیں گے تو پلاسٹک زیادہ آئے گی اورمچھلی کم ہوں گی۔

سینیٹر محسن عزیز اس بات سے بھی ایوان کو آگاہ کیا کہ 50-60 ملین پلاسٹک کی بوتلیں روزانہ استعمال ہوتی ہیں جس میں سے255000ٹن ویسٹ ہم اس ملک میں پھینک دیتے ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتا ہوئے بتایا کہ3.3ملین ٹن پلاسٹک کاکچرا ہم پاکستان میں پھینک دیتے ہیں۔

انہوں نے ایوان میں اس بات کا بھی مطالبہ کیا کہ ملک میں پلاسٹک کی بوتلوں کو کم ہوناچاہیے یاملک سے اس کا استعمال ختم ہوناچاہیے، پاکستان میں مافیاز موجود ہیں ،بڑی کمپنیاں ہیں جو ان بوتلوں کواستعمال کررہی ہیں۔

سنیٹر شہادت اعوان نے سینیٹرمحسن عزیز کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ کسی بھی قسم کو پلاسٹک تلف ہونے میں ساڑھے4سو سے لیکرایک ہزار سال تک کا وقت لےلیتا ہے، پاکستان دنیا کے ان 28ممالک میں شامل ہے جنہوں نے پلاسٹک کے استعمال پر پابندی لگائی ہے۔ماضی میں پلاسٹک بیگ کے امپورٹرپر10لاکھ تک جرمانہ بھی کیا گیاتھا۔

وفاقی وزیرقانون و انصاف اعظم نذیرتارڑنے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ دور میں پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان نے بطوروفاقی وزیر اس مسئلے پر بڑاکام کیا تھا، ماضی میں سرکاری دفاتر اور وزارتوں میں سختی سے کہہ دیاگیا تھا کہ پلاسٹک کی بوتلوں کااستعمال ترک کردیں۔

وفاقی وزیرکا مزید کہنا تھا کہ اگر آج سے پلاسٹک کی ہوتلوں کا استعمال ختم کریں تب بھی تقریبا چار سال لگیں گے بوتلوں کو مکمل ختم ہونے میں2028تک صرف چھوٹی بوتلوں کوختم کیاجاسکے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔