مارگلہ نیشنل پارک میں قائم مونال ریسٹورنٹ کی تین ماہ میں منتقلی کا فیصلہ

ویب ڈیسک  منگل 11 جون 2024
کیا مارگلہ کے پہاڑوں پر سی ڈی اے والے خود آگ لگاتے ہیں، چیف جسٹس پاکستان

کیا مارگلہ کے پہاڑوں پر سی ڈی اے والے خود آگ لگاتے ہیں، چیف جسٹس پاکستان

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مونال ریسٹورنٹ کیس میں اسلام آباد کی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) کی رپورٹ مسترد کردی۔

سپریم کورٹ میں مونال ریسٹورنٹ کیس کی سماعت ہوئی تو سی ڈی اے نے مارگلہ نیشنل پارک میں تمام تعمیرات کی تفصیلات پر رپورٹ پیش کی۔

سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے کو فوری طلب کرلیا۔

چیف جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ سی ڈی اے سے مونال کے ساتھ دیگر ریسٹورنٹس کی تفصیل مانگی تھی، سی ڈی اے رپورٹ میں اسپورٹس کلب پاک چائنہ سینٹر، آرٹ کونسل نیشنل مونومنٹ شامل ہے، لیکن دنیا کو معلوم ہے مونال کیساتھ مزید کتنے ریسٹورنٹس ہیں، مگر نہیں معلوم تو سی ڈی اے کو معلوم نہیں، یہ سی ڈی اے کی ایمانداری ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم پر چیئرمین سی ڈی اے فوری طور پر عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ اس سیزن میں اکیس مرتبہ مارگلہ کے پہاڑوں پر آگ لگی۔

چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ کیا مارگلہ کے پہاڑوں پر سی ڈی اے والے خود آگ لگاتے ہیں؟  تو چیئرمین سی ڈی اے نے جواب دیا کہ کچھ کالی بھیڑیں بھی موجود ہیں۔

عدالت نے مونال کے اطراف دیگر ریسٹورنٹس کی تفصیل طلب کرلی۔

مونال ریسٹورنٹ نے رضاکارانہ طور پر تین ماہ میں ریسٹورنٹ منتقل کرنے کی یقین دہائی کروا دی۔

سپریم کورٹ نے مونال سمیت نیشنل پارک ایریا میں قائم تمام ریسٹورنٹس کو بھی تین ماہ میں منتقلی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ رضاکارانہ طور پر منتقل نہیں کریں گے تو ہم سیل کرنے کا حکم دیدیں گے، ہمارا مقصد نیشنل پارک کا تحفظ یقینی بنانا ہے، نیشنل پارک کے علاوہ قائم دیگر تمام ریسٹورنٹس کو جاری کیے گئے غیر ضروری نوٹس ختم کیے جاتے ہیں ، ہمارے کیس کا فوکس صرف نیشنل پارک کی حد تک ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔