بجٹ پر حکومت سے بات ہورہی ہے، امید ہے شہباز شریف وعدے پورے کریں گے، بلاول

ویب ڈیسک  جمعـء 21 جون 2024
بلاول بھٹوزرداری لیاری میں بینظیر بھٹو کی سالگرہ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے—فوٹو: اسکرین گریب

بلاول بھٹوزرداری لیاری میں بینظیر بھٹو کی سالگرہ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے—فوٹو: اسکرین گریب

  کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام کو لوڈ شیڈنگ سے ریلیف کے لیے مفت سولر دیں گے جبکہ بجٹ کے معاملے پر حکومت سے بات چیت جاری ہے اور امید ہے شہباز شریف ہمارے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کریں گے۔

لیاری میں بینظیر بھٹو کی سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے تین نسلوں سے ایک شہر کی جدوجہد میں حصہ لیا اور لیاری کے عوام کے ساتھ مل کر دو آمروں کا مقابلہ کیا اور شہریوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔

انہوں نے کہا کہ میں بھی جب سے سیاست میں آیا ہوں کراچی کے عوام کے ساتھ مل کر جدوجہد کرتا آرہا ہوں، وہ شہر جس میں بینظیر بھٹو پیدا ہوئیں اور میں خود پیدا ہوا، اس کی ترقی کے لیے میں یہاں کے عوام کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنا چاہتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کی مدد سے ہم نے ایک مرتبہ پھر سندھ میں حکومت بنائی ہے اور ہم پر اعتماد کرکے پیپلزپارٹی کو منتخب کروایا ہے، اسی لیے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو کراچی کے عوام کے مسائل پر توجہ دینے کے لیے زور دیا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ میں مراد علی شاہ اور ان کی ٹیم کا شکر گزار ہوں کہ جب وہ ایک بار پھر منتخب ہو کر آئے ہیں تو جو مسائل نگران حکومت کے دوران پیدا ہوئے وہ حل ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امن کے حوالے سے وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کام کر رہی ہے اور ہمیں اس کے نتائج بھی نظر آرہے ہیں اور امید ہے آگے اس میں بھی بہتری آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ہے، خاص طور پر سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 18 اور 16 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے اور جب عوام کو بل ملتے ہیں تو وہ بل بھی ادا نہیں کرسکتے ہیں۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ بجلی فراہم کرنے والے وفاقی اداروں سے عوام کا اعتماد اٹھ رہا ہے تو ہم نے سوچا کہ ایک ایسا منصوبہ لے کر آئیں، جس میں ہم خاص طور غریب عوام کو مدد دے سکیں اور وزیراعلیٰ اس بجٹ میں ایک نیا منصوبہ شروع کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم غریب عوام کو مفت سولر کی سہولت دیں گے تاکہ ان کو لوڈ شیڈنگ سے ریلیف مل سکے اور جو لوگ افورڈ کرسکتے ہیں ان کو بھی سبسڈائز ریٹ پر سولر فراہم کریں گے تاکہ لوڈ شیڈنگ میں کوئی بہتری آئی۔

‘حکومت کے ساتھ بجٹ پر بات جاری ہے’

بلاول بھٹو نے کہا کہ اس وقت ملک کی معاشی مشکلات آپ کے سامنے ہے اور حکومت وقت اس سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ بہتر یہ ہوتا کہ حکومت وقت اپنے تمام اتحادیوں اور خاص طور پر پی پی پی سے پہلے سے بات چیت کرکے یہ بجٹ بناتی تاکہ ہم اپنی رائے دیتے، اپنے مسائل سے ان کو آگاہ کرتے کہ ہمارا اپنا ایک حلقہ ہے اور ہمیں ملک کے غریب عوام ووٹ دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ بناتے وقت اگر پی پی پی کی رائے ہوتی تو ہم بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے ہیں لیکن اس مشکل وقت میں ہم سب کو مل کر ملک اور معیشت کو سنبھالنا ہے۔

 

 

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اسلام آباد میں ہمارے نمائندے حکومت کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اس وقت پی پی پی کی شکایت دور کرنے کے لیے جو ہوسکتا ہے وہ ہو تاکہ ہم مل کر بجٹ منظور کرسکیں اور ملک کو اس معاشی مشکلات سے نکال سکیں، مجھے وزیراعظم شہباز شریف سے امید ہے اور ان کی نیت بھی صاف ہے، وہ پی پی پی کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرکے دکھائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ اپنے عوام کے لیے آواز اٹھائیں گے اور آپ کی نمائندگی کرتے رہیں گے اور یہ جدوجہد اس وقت جاری رہے گی جب تک آپ کا حق آپ کو نہیں دلاتے۔

‘سیاسی بحران’

بلاول نے کہا کہ ایک طرف معاشی مشکلات ہیں اور دوسری طرف سیاسی طور پر بھی ایک ایسا بحران پیدا ہوگیا ہے جہاں نفرت کی سیاست عروج پر ہے اور جب ہم اسلام آباد جاتے ہیں تو وہاں کے سیاست دان ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے اور آپس میں بات کرنے کو تیار نہیں ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چاہے آپ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں بیٹھے ہوں، ہمارا فرض اور کام پاکستان کے عوام کی نمائندگی کریں اور اُن کے مسائل حل کریں۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ہم ایک بار پھر زور دیتے ہیں وہ تمام سیاسی جماعتیں جو اپنی انا اور ذاتی مسئلے کی وجہ سے پاکستان اور پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں ، ہمارے پورے معاشرے میں نفرت کی سیاست پھیلا رہے ہیں کہ ان کو پارلیمان میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری قوتوں کو جمہوری قوتوں سے بات کرنی چاہیے تاکہ ہم اپنے جمہوری نظام کو بہتر اور فعال بنا سکیں، جس کے لیے لیاری اور پاکستان بھر کے عوام نے قربانیاں دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس دن تمام سیاسی جماعتیں ایک ہو کر فیصلہ کریں کہ پارلیمان وہ ادارہ ہے جہاں سے ہم پاکستان کے عوام کے مسائل حل کریں گے اور آپ کی لڑائیاں نہیں لڑیں گے تو پھر آپ دیکھیں گے ہم معیشت سمیت دیگر مسائل کا حل ویسے ہی نکال سکتے ہیں جیسے عوام امید کرتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔