بجٹ کے معاملے پر ن لیگ اور پی پی کی کمیٹیوں کی چار گھنٹے بیٹھک میں اہم پیشرفت

ویب ڈیسک  جمعـء 21 جون 2024
فوٹو فائل

فوٹو فائل

 اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومت کی کمیٹیوں کے اجلاس میں اہم پیش رفت ہوئی، دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس تقریباً 4 گھنٹے جاری رہا

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر پاکستان پیپلز پارٹی کی مذاکراتی ٹیم چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس پہنچی۔

مزید پڑھیں: بجٹ منظوری پر حکومت کو ووٹ دینے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا، شازیہ مری

کمیٹی ارکان میں راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، خورشید شاہ پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی سید علی حیدر گیلانی ندیم افضل چن نوید قمر شامل تھے۔ جس نے مسلم لیگ ن کے وفد سے ملاقات کی۔

ن لیگ کے وفد میں اسپیکر ایاز صادق، رانا ثنا اللہ، خواجہ سعد رفیق شریک تھے جبکہ ویڈیو لنک پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان اور مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے پنجاب میں انتظامی معاملات اور بجٹ میں جنوبی پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ پاور شئیرنگ پر ن لیگی حکومتی کمیٹی کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی اور بجٹ پر تحفظات سے آگاہ کیا۔ کمیٹی نے تجویز دی کہ آئندہ اجلاس میں بجت سفارشات ہیش کی جائیں گی۔

چار گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں پی پی وفد نے جنوبی پنجاب کے معاملات پر بھی اپنے تحفظات پیش کیے۔

اُدھر  پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ بجٹ منظوری پر حکومت کو ووٹ دینے کا تاحال فیصلہ نہیں ہوا ووٹ دینے کا انحصار موجودہ ڈائیلاگ پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ ڈنکے کی چوٹ پر پاس ہوگا، اسے کوئی نہیں روک سکتا، فیصل واوڈا

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سازی کے وقت ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان معاہدہ ہوا تھا مگر (ن) لیگ نے معاہدے پر عمل نہیں کیا جس پر ہمارے شدید تحفظات ہیں، بجٹ منظوری پر حکومت کو ووٹ دینے کا تاحال فیصلہ نہیں ہوا اور حمایت یا تعاون کا انحصار مذاکرات پر ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔