پی ٹی آئی کی احتجاجی ریلی، چیف الیکشن کمشنر اور چاروں ارکان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

ویب ڈیسک  ہفتہ 22 جون 2024
(فوٹو : فائل)

(فوٹو : فائل)

 اسلام آباد: اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی قیادت میں قومی اسمبلی سے الیکشن کمیشن آفس تک ریلی نکالی گئی، پی ٹی آئی نے چیف الیکشن کمشنر اور چاروں ممبران سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق عمر ایوب، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور زرتاج گل سمیت دیگر اراکین قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن تک احتجاجی ریلی نکالی. ریلی کے دوران بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے نعرے بازی کی گئی۔

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن تک ریلی کا مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، ہمارے کیسز پر تاریخ پر تاریخ مل رہی ہے، ہماری خواتین کوبار بار گرفتار کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : قومی اسمبلی اجلاس؛ اپوزیشن کا سیکیورٹی ناکامی پر کورکمانڈرز کانفرنس بلانے کا مطالبہ

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ لاقانونیت کے خلاف پارلیمنٹ سے باہر آئے ہیں، پُرامن احتجاج کر رہے ہیں، چیف الیکشن کمشنر اور چاروں ممبران فوری استعفیٰ ہوں، الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا، سو کے قریب اسیران کے ساتھ اظہار یک جہتی کیلئے ریلی نکالی ہے، چیف الیکشن کمشنر اور ممبران نے عدالتوں میں جھوٹ بولا، انہوں نے 16 ارب چرچ کیے اور مانگے 47 ارب روپے تھے، یہ شفاف الیکشن کروانے میں ناکام رہے ہیں۔

عمر ایوب نے کہا کہ انہوں نے ہماری سیٹیں چوری کی ہیں، انہوں نے فارم سینتالیس والے لوگ مسلط کئے ہیں، ایس پی سٹی کا آپریٹر ہماری ویڈیو کیوں بنا رہا ہے، پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔

اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملٹری کورٹس سے متعلق کیس سپریم کورٹ سے فوری سننے کی درخواست ہے۔

زرتاج گل کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں ہماری بات نہیں سنی جا رہی، سچ کو دبایا نہیں جا سکتا، پچیس کروڑ لوگ ایک ہی بات کررہے ہیں کہ ملک کے سب سے بڑے لیڈر کو گرفتار کررکھا ہے، کیونکہ اس کا سیاسی سطح پر کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، اس لیے ان کی بیگم کو بھی گرفتار کررکھا ہے۔

زرتاج گل نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کیا جائے، بانی پی ٹی آئی کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں کہ پچاس روپے کے اسٹام پر بیماری کا بہانہ بنا کر باہر نہیں گئے۔

بعدازاں پی ٹی آئی اراکین اسمبلی واپس پارلیمنٹ کی جانب روانہ ہوگئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔