سندھ ہائی کورٹ کا صوبے میں شراب کی تمام غیر قانونی دکانیں بند کرنے کا حکم

ویب ڈیسک  منگل 18 اکتوبر 2016
پنڈتوں اور بشپ کو بلا کر پوچھیں گے کون سی گیتا اور بائبل سارا سال شراب پینے کی اجازت دیتی ہے، عدالت  کے ریمارکس فوٹو:فائل

پنڈتوں اور بشپ کو بلا کر پوچھیں گے کون سی گیتا اور بائبل سارا سال شراب پینے کی اجازت دیتی ہے، عدالت کے ریمارکس فوٹو:فائل

 کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے صوبے میں خلاف قانون قائم شراب کی تمام  دکانیں فوری بند کرنے کاحکم جاری کرتے ہوئے 2 روزمیں رپورٹ طلب کرلی ہے جب کہ تمام لائسنس ری کال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سندھ جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں شراب خانوں کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔اس موقع پر ڈی جی ایکسائز نے رپورٹ  پیش کرتے ہوئے کہا کہ پورے سندھ میں 124 جب کہ کراچی کے ضلع جنوبی میں شراب خانوں کے لئے 24 پرمٹ جاری کیے گئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیےکہ الیکشن کمیشن کے مطابق ضلع جنوبی میں 20 ہزار اقلیتی ہیں لیکن شراب کی 20 دکانیں کھلی ہیں،حدود آرڈیننس سیکشن 17 کے تحت  اقلیتوں کے مذہبی تہوار کے موقع پرشراب فراہم کی جاسکتی ہے مگریہ کون سا قانون ہے کہ شراب کی دکان سارا سال کھلی رہیں؟

سندھ ہائی کورٹ نے سخت ریمارکس دیتے  ہوئے کہا کہ پنڈتوں اور بشپ کو بلا کر پوچھیں گے کون سی گیتا اور بائبل سارا سال شراب پینے کی اجازت دیتی ہے؟ ضلع جنوبی میں جتنی شراب  ہے وہ اقلیتوں کے نہانے کے بعد بھی بچ جائے گی۔ عدالت نے خلاف قانون قائم شراب کی تمام دکانیں فوری بند کرنے کاحکم دیا اور ڈی جی ایکسائز کوشراب کی دکانوں کےلیے جاری تمام لائسنس ری کال کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔