صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
جناح نے ہندوستان کا بٹوارہ کیا مگر پاٹیل کے پیروکار مودی نے ہندوستان کو اندر سے کھوکھلا کرنے کی سوچ رکھی ہے۔
بہت دیرکردی ہم نے ریاست کی نفسیات اور سائنس کو سمجھنے میں،اپنی تاریخ کوترتیب دینے میں، اپنے بیانیے کوصحت مندبنانے میں۔
آج کل رتو ڈیروکا چرچا عام ہے۔ یہاں جو ہونا تھا، وہ بات شاید ہم نے کبھی یہاں کی ہوگی۔
جائیں تو جائیں کہاں؟ ہم پھر آگئے اٹھارویں ترمیم کے پیچھے، این ایف سی ایوارڈ کے پیچھے، صوبوں کے پیچھے۔
ہم تو سمجھتے تھے کہ تبدیلی آگئی،آئی تبدیلی تو تبدیلی کے اس حال نے دل توڑ دیا۔
بات اگر ’’صاحبہ‘‘ تک ہوتی تو بھی ٹھیک تھی ’’صاحبہ‘‘ تو ایک بہانہ تھا اپنی نالائقیاں چھپانے کے لیے۔
ہم جس موڑ آن کھڑے ہیں، وہ ہماری ہی بنائی ہوئی میراث ہے۔
باتوں سے پیٹ نہیں بھرا کرتے۔ لفاظی،شعلہ بیانی، میڈیا پر میٹرو ٹرین کا دکھا وا۔
ہمیں سب سے پہلے انسان بننا ہے اور اگر ہم انسان ہی نہ بن پائے تو باقی سارے بھیس اپنی معانی کھو بیٹھتے ہیں۔
کہنے کا مْقصد یہ کہ ہمیں بھگت سنگھ کے حوالے سے تو بہت کچھ پڑھنے کو ملتا ہے