صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
ہمیں اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہنے کے رجحان کو قومی سیاست کا محور بنانا ہو گا
کچھ عرصہ قبل تک ہماری سیاسی اشرافیہ میں یہ بات زیربحث رہتی تھی کہ ہماری ریاست دہشت گردوں کے سامنے بے بس ہے
عموماً لوگ فوری طور پر بہت کچھ حاصل کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں
پاکستان کی سیاست کا ایک مجموعی مزاج طاقت کے حصول اور اقتدار کی حکمرانی کے گرد محدود ہوکر رہ گیا ہے۔
وہ جس مزاج اور سیاسی سوچ و فکر کے آدمی ہیں ان کے لیے اس عہدے پر طویل عرصے تک رہنا ممکن نہیں تھا۔
پاکستان میں دینی مدارس کے پھیلاؤ پر معاشرہ کے ایک طبقہ میں کافی تشویش بھی پائی جاتی ہے۔
بنیادی طورپردہشت گردی علاقائی ملکوں میں کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ بھارت،افغانستان اورپاکستان کویہ مسئلہ درکارہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ ہم آج 2014میں بیٹھ کر مذہبی اقلیتوں کی ملک سے محبت ، وفاداری کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
نظریاتی سیاست سے وابستہ دائیں اور بائیں بازو کے سیاسی کارکنوں نے’’ چہرے نہیں نظام کو بدلو‘‘ کا نعرہ بلند کیا تھا۔
پاکستان کی قومی سیاست الزامات کی سیاست کا حصہ بنی ہوئی ہے ۔ یہ منظر نامہ 90کی دہائی کی سیاست کا ہے۔