صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
ہمیں سب سے پہلے ان اسباب کو ختم کرنا ہوگا جس کی وجہ سے ہمارے نظام تعلیم میں خرابیوں نے جنم لیا ہے
سیکولر نظام میں تمام مذاہب کو کسی امتیاز کے بغیر برابری کی بنیاد پر مساوی حقوق حاصل ہوتے ہیں
میرے نزدیک ایک انسان کا اپنے ہم زبان سے محبت ہونا ایک فطری عمل ہے
اگر ہم مختلف مافیاؤں اور دیگر غیر سیاسی عناصر سے نجات چاہتے ہیں تو ہمیں ملک میں جمہوری نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔
اگر انسان حالات سے مایوس نہ ہو اور اس کو بدلنے کی جدوجہد جاری رکھے تو وہ لازمی کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔
یونیورسٹی کی تعلیم کو غیر ضروری علمی بوجھ سے آزاد کرکے اعلیٰ تحقیق کے نام سے موسوم کیا جائے۔
خرابیوں کے ذمہ دار حکمران طبقہ ہے جو جاگیردارانہ سوچ کا حامل ہے
ہمیں سمجھنا چاہیے کہ شخصیات حالات تبدیل نہیں کرتیں بلکہ خود حالات کی پیداوار ہوتی ہیں
ممکن ہے کہ یہ اقتباس پڑھ کر آپ کہیں کہ اس میں کوئی ایسی خاص بات نہیں ہے جس کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
نشے کا آغاز عام طور پر تفریحاً کیا جاتا ہے۔