US
صفحۂ اول
تازہ ترین
پی ایس ایل 11
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
حکومت تو برائے نام اونٹ کے منہ میں ’’زیرہ‘‘ جتنی تنخواہ دے کر آرام سے بیٹھ جاتی ہے۔
ہم تو بعض اوقات حیران ہو جاتے ہیں کہ غالبؔ کو سیکڑوں سال پہلے ان باتوں کی خبر کیسے ہو گئی تھی۔
پشتو میں کہاوت ہے کہ میرے محبوب کوماردیا اب کیا پوچھنا کہ تیر سے مارا تلوار سے یا بندوق سے یا اینٹ پتھر سے۔
ہم کسی اور کی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ ٹی وی اشتہاروں کی طرح سچی مچی کہتے تھے کہ ہم بہت پریشان تھے۔
افسوس صد افسوس کہ اس ’’ڈالریریا‘‘نے اس کاکام تمام کیا، اسے پہلے بدنام پھرعام کیا اور آخر میں ’’بے نام‘‘ کیا۔
مختلف ٹیکسوں اور کٹوتیوں کی آگ سے سرمایہ خود بخود پگل چکاہوتاہے۔
ہمیں تو اور خوشی اس لیے ہوئی کہ کتاب کے ساتھ ساتھ ’’گمشدگان‘‘کی جگہ ایک اور ’’عتیق‘‘مل گیا۔
’’دقیانوسی سوچ‘‘ والے واقعی بہت ہی ’’دقیانوسی سوچ‘‘ والے ہیں بلکہ ’’چھوٹی سوچ‘‘ والے بھی ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں بھی ایک بڑے مدھوبن کے اندر بہت سارے اور مدھوبن بھی پائے جاتے ہیں۔
معاملہ بچت کا بھی نہیں ہے جیسا کہ ہاتھی کے دانتوں کی طرح دکھایا جا رہا ہے۔