US
صفحۂ اول
تازہ ترین
پی ایس ایل 11
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
سیدھی سادی بات تو ہم سمجھ لیتے ہیں لیکن جب ایک ہی منہ سے ’’دو مونہی‘‘ بات نکلتی ہے۔
یہ خان گل پری خان گویا جدید زمانے کا کھل جاسم سم ہے بلکہ ہمیں شک ہے کہ کہانی میں کہانی کار نے ڈنڈی ماری ہے۔
اور یہ بات ہم اس لیے کہہ رہے ہیں کہ ’’ورگی‘‘ تو نہیں لیکن سلفے کی لاٹ ہم نے دیکھی ہے۔
اصل المیہ یہ بھی نہیں ایک زمانے میں ’’گالیاں دینا‘‘ جاہل اجڈ اور گنوار لوگوں کا کام سمجھا جاتا تھا۔
پشتو میں ہمیں بچپن میں ’’بیس انگلے‘‘ سے ڈرایا جاتا تھا، چپ ہو جاؤ ورنہ ’’بیس انگلا‘‘ آ جائے گا۔
’’ثقافت‘‘ میں اس کے یہی معنی شامل ہوتے ہیں اور چھت اگر دیواروں کو مکان بناتی ہے تو’’مکان‘‘انسانی آبادی کی علامت ہے۔
سہراب کو افراسیاب نے پال پوس کر پھر اپنی بیٹی دے کر اپنے باپ رستم کے مقابل کیا تھا۔
ہم صرف ایک مثال دیتے ہیں حالانکہ ہر ہر جگہ جہاں کام کرنے کا شبہ ہو یہ سلسلہ چل رہاہے۔
آپ پوچھیں گے کہ یہ بات ہمیں کیسے پتہ چلی تو وہ ان دونوں کی پوزیشن اور کٹے دھرے سے معلوم ہوئی۔
ہم کچھ اور چیزوں کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں جو بری لگتی ہیں لیکن بری ہوتی نہیں ہیں۔