US
صفحۂ اول
تازہ ترین
پی ایس ایل 11
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
ایک زمانے میں افغانستان کے لوگ اپنے سکے کو افغانی اور انگریزی سکّے کو ’’ کلدار ‘‘ کہتے تھے۔
ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمام ۔ تو اگر اجازت ہو تو کچھ کام کی بات کریں؟
اگر سوچنا مشکل ہو کہ قرضے کی رقم سے صرف وہ کام کیے جاتے ہیں جن میں روپیہ ماردیا جاتا ہے بلکہ قتل کر دیا جاتا ہے۔
ہمیں اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، بہت سارے لوگ ’’ بہت کچھ ‘‘ کرتے رہتے ہیں۔
ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ، اگر وہ ’’یوٹرن‘‘ کی بنیاد پر ہٹلر اور نپولین سے خود کو برتر بنائیں
دوسرا ٹھیکیدار پہلے والے ٹھیکیدار کو بے ایمان اور چور کہہ کر نئے دعوے سے آتا ہے۔
ہم بھی پڑھ رہے ہیں اورآپ بھی سن اور پڑھ رہے ہوں گے کہ ہر طرف ’’ سو سو ‘‘ کا سو سو ہو رہا ہے۔
آج کل تو ملنگ لوگ بھی اپٹوڈیٹ ہوکر بوٹ سوٹ میں پھرتے ہیں اور کشکول کو بھی چھپائے رکھتے ہیں۔
اس علیم و بصیر کے دیکھنے سے کچھ شرم کرو، کب تک یہ جھوٹ اورمنافقت کا منافقانہ ڈرامہ چلتا رہے گا۔
سیدھا سیدھا ’’تم‘‘ کہتے ہیں کہ ’’تم‘‘ ہاں تم آخر کب اس جھوٹ منافقت سے ’’سچ‘‘ پھوٹو گے۔