US
صفحۂ اول
تازہ ترین
رمضان
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
پختونخواہ کی سیاست کا محور پختون مفادات ہے، پنجاب کی سیاست ’’جاگ پنجابی جاگ‘‘ کے نعروں میں ڈوبی نظر آتی رہی۔
ٹارگٹ کلنگ اب سیاسی اور فقہی حدود پارکرکے فلاحی کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز تک پہنچ گئی ہے۔
ھارت میں مذہبی جماعتوں کی کامیابی یا مقبولیت کی ہرگز یہ وجہ نہیں کہ یہاں عوام کی نظریاتی سمت بدل گئی ہے .
تبدیلی لانے کے لیے معاشرے میں ایک فکری تبدیلی لانا پڑتی ہے۔ یہ کام اہل علم، اہل قلم، اہل دانش انجام دیتے ہیں.
ایک سبزی فروش سے لے کر ملٹی نیشنل کمپنیوں تک سب کرپشن کے مرتکب ہیں۔۔
کہا جاتا ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ ڈسا نہیں جاتا، لیکن پاکستان کا مومن 1970 سے اب تک بار بار ڈسا جارہا ہے۔
جب بھی کہیں کلیسائی نظریات برسر اقتدار آئے تو انھوں نے سب سے پہلے ریاستی طاقت کو فاشسٹ طریقے سے ہتھیانےکی کوشش کی۔
قانون اور انصاف کو ان مجرموں کو سزا دینے کی ذمے داری سونپ دی، چور اور چوکیدار دونوں کا تعلق غریب طبقے ہی سے ہوتا ہے
عدلیہ دور اندیشی اور تدبر کا مظاہرہ نہیں کرتی تو ملک سیاسی ارتقا کے بجائے سیاسی اور سماجی انارکی کی طرف چلا جائے گا۔
کراچی کے مسائل سمجھنے کے لیے یہاں بسنے والےغریب عوام کی تقسیم اور ان کے درمیان اختلاف کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔