صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
افراط زر پر دھواں دھار تقاریرکا مزہ اس وقت دوبالا ہوا چلا جا رہا ہے جب سے حکومت نے ضمنی بجٹ پیش کیا ہے
یہاں پر بہت سے معاملات ایسے ہیں اور بہت سے افراد ایسے رکاوٹ بن سکتے ہیں جن کی مٹھی گرم کیے بغیر اس کا کام نہیں ہو سکتا
پاکستان میں کھاد کی فراہمی کے جومسائل درپیش ہیں اس کے ساتھ ہی ناقص بیج بھی کاشتکاروں کے لیے دردسری کا باعث بنا ہوا ہے
افراط زرکوکنٹرول نہ کیا جاسکے تو یہ بڑھتا ہی رہتا ہے حتیٰ کہ معاشی حالات سخت ترین ابتری کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔
سال 2021جوکہ پاکستان کی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرکے اپنے اختتامی ایام طے کر رہا ہے
ترقی پذیر ممالک چاہے جنوبی ایشیا کے ہوں یا افریقہ یا دیگر خطوں کے ہوں، ان سب کے صحت کے مسائل دیرینہ ہیں۔
سماج دشمن اور فلاحی پروگراموں کی مالیاتی امداد پر نقب ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
اگر معاشی حکام تھوڑی سی محنت کرکے یہ تبدیلی لے آئیں کہ اب خوراک کا ذخیرہ نہیں ہوگا۔
آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کی صورت میں برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
نئے مالی سال کی آمد کے ساتھ ہی معیشت کی بہتری کے بارے میں بہت سی توقعات وابستہ ہیں