صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
حکومت کی جانب سے سرکاری قیمت خرید 1800روپے فی من مقرر ہے جب کہ مطالبہ 2000 روپے فی من کا بھی کیا جا رہا ہے۔
نتیجہ تو یہی سامنے آ رہا ہے کہ ترقیاتی فنڈز کے اہم مقاصد ابھی تک حاصل نہ ہوئے۔
زرعی سائنسدان،زرعی یونیورسٹیاں، زرعی تحقیقاتی ادارے اب کمر باندھ لیں کہ کسانوں کی محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
حکومت کہتی ہے کہ اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ذرا اس جانب بھی کوئی چھوٹی سی تبدیلی لا کر دیکھیں۔
معاشی ترقی کی شرح میں اضافے کیلیے حکومت کوسرکاری ملازمین اورپنشن یافتہ افرادکواداکی جانے والی رقوم میں اضافہ کرناہوگا۔
میلینم گولز لکھنے والوں نے دیکھا ہوگا کہ ابھی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں جنگ کا آغاز ہوگیا۔
مہنگائی کی آبیاری اس کی پرورش اسے مزید بڑھاوا دینے میں سماج کے بہت سے طبقے منظر عام پر آتے رہے۔
پاکستان کی معیشت کا المیہ یہ ہے کہ معاشی ترقی کی شرح کے حصول کے باوجود غربت میں تیزی سے کمی نہ لائی جاسکی۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جو حل دیے جاتے ہیں بجلی کے نرخ کب تک بڑھاتے رہیں گے۔
عالمی مالیاتی اداروں امیر صنعتی ممالک کو بھی ترقی پذیرملکوں کے بارے میں اپنی سخت پالیسیوں کو فوری طورپر نرم کرنا ہوگا۔