جمہوری کمٹمنٹ کا صائب اظہار

اجلاس میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے ختم نبوت کے حلف نامے سے متعلق بل کی متفقہ منظوری پر مبارکباد دی


Editorial November 18, 2017
اجلاس میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے ختم نبوت کے حلف نامے سے متعلق بل کی متفقہ منظوری پر مبارکباد دی۔ فوٹو:فائل

GAZA CITY, PALESTINIAN TERRITORIES: قومی اسمبلی میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیمی بل دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا گیا، ایوان نے الیکشن ایکٹ کے ترمیمی بل کی بھی منظوری دیدی، جس کے بعد ختم نبوت اور قادیانیوں کے حوالے سے شقیں بحال ہو گئی ہیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں ہوا۔ نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیمی بل 2017ء کی حمایت میں 242 ووٹ آئے۔ صرف ایک رکن جمشید دستی نے مخالفت کی۔ نئی آئینی ترمیم میں تمام جماعتوں کے تحفظات کو شامل کر لیا گیا ہے۔ اسپیکر نے کہا نئی حلقہ بندیوں کا کام ترمیم کی منظوری کے بعد شروع ہو جائے گا۔

میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی میں نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیمی بل اور ختم نبوت کے متعلق شقوں کی بحالی کے لیے ترامیم کی منظوری کے موقع پر کئی اہم پارلیمانی رہنما ایوان سے غیر حاضر رہے۔ وفاقی وزراء کورم کے لیے اراکین کی تعداد پوری کرنے میں مصروف رہے۔ لیگی اراکین کی حاضری سے اسپیکر کو بھی آگاہ کیا جاتا رہا۔ تاہم اجلاس میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے ختم نبوت کے حلف نامے سے متعلق بل کی متفقہ منظوری پر مبارکباد دی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بل کی منظوری کے دوران ایوان میں موجود رہے اور مختلف جماعتوں کے ارکان سے تبادلہ خیال کیا۔

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے صورتحال واضح کی کہ ہم بروقت انتخابات چاہتے ہیں، تاخیری حربے استعمال نہ کیے جائیں۔ پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا ان اسباب کو دیکھا جائے جن کی وجہ سے مردم شماری میں تاخیر ہوئی۔ ایم کیو ایم کے فاروق ستار نے کہا خوشی ہے کہ کراچی اور سندھ کے شہری حلقوں کو بڑا مسئلہ مانا گیا ہے، ری کاؤنٹنگ ہونی چاہیے۔

جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ فاٹا میں بھی پانچ فیصد بلاکس کی تصدیق کرائی جائے۔ آئینی ترمیم کی مخالفت میں جمشید دستی نے کہا وہ اس ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ وزیر قانون زاہد حامد نے بل پیش کرتے ہوئے کہا قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے حوالے سے شق 7B اور قادیانیوں کی بطور مسلمان ووٹر لسٹ میں اندراج کی روک تھا م کے لیے شق 7C کو بھی الیکشن بل 2017ء کا باضابطہ حصہ بنا دیا گیا۔ اس ترمیمی بل کے ذریعے ختم نبوتؐ کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کر دیا ہے۔ زاہد حامد نے ذاتی وضاحت کرتے ہوئے کہا میں سچا عاشق رسولﷺ ہوں اور خاتم النبیینﷺ پر میں اور پورا خاندان جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، انھوں نے کہا کہ الیکشن بل 2017ء کی تیاری کے لیے پارلیمانی اور سب کمیٹی کے 125 اجلاس ہوئے، ختم نبوت ؐ کے حوالے سے کسی نے کوئی سازش نہیں کی۔

اسپیکر ایاز صادق نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا حلقہ بندیوں کے آئینی ترمیمی بل پر متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ باقی جماعتوں کا اتفاق ہوگیا ہے، تاہم ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات برقرار ہیں، آپشنز موجود ہیں، ایم کیو ایم اپنا مسئلہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جا سکتی ہے، مسئلہ مطلوبہ بلاکس میں ازسر نو مردم شماری کا ہے، اسے الیکشن کمیشن اور محکمہ شماریات کے حکام وسیع تر قومی مفاد اور آیندہ انتخابات کے وقت مقررہ پر انعقاد کے تناظر میں یقیناً ترجیح کا حامل سمجھیں گے۔ بہرکیف جو اصل پیشرفت ہے وہ سیاسی رہنماؤں کی اجتماعی بصیرت، ملک کو درپیش چیلنجز کا ادراک اور اتفاق رائے پر مبنی قومی مسائل کا حل ہے، بظاہر سیاسی محاذ آرائی، الزام تراشی اور کشمکش کے اعصاب شکن ماحول میں نئی حلقہ بندیوں اور ختم نبوت سے متعلق الیکشن ایکٹ کی شقوں کی بالاتفاق بحالی کار دشوار نظر آتا تھا مگر جمہوریت جس طرز حکومت کا نام ہے۔

اس میں مضمر تمام خرابیوں کے باوجود سیاسی اشتراک عمل، کثیر جہتی سیاسی معاملات پر اختلاف رائے کے باوجود اہم اور حساس ایشوز کا خیر سگالی، کشادہ نظری اور جمہوری وسیع المشربی کے ساتھ اتفاق رائے اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جمہوری عمل کو آگے بڑھانے اور نظام کو استحکام و استقامت دینے کے لیے سیاسی قائدین میں قومی مفادات سے گریز کا کوئی جمود زدہ مائنڈ سیٹ نہیں ہے، بلکہ سیاسی تجربات اور چیلنجنگ سیاسی صورتحال میں پارلیمنٹ سے کسی بھی اہم مسئلہ کے حل کی جستجو اور امید رکھنا قومی سیاست میں پیش قدمی کا مظہر ہے اور دو غیر معمولی ایشوز پر تصفیہ کی صورت نکال کر قوم کو باور کرایا گیا کہ اداروں میں مزید استقامت آنی چاہیے تاکہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے انتخابات شفاف طریقے سے منعقد ہوں۔

ان کے نتائج پر سب کا اتفاق و اعتماد ہو، جعلی ووٹوں کی کوئی چیخ و پکار نہ سننا پڑے، انتخابی ادارہ کا تقدس، عدلیہ کے احکامات کے احترام، سیاسی رواداری اور دینی اقدار و ختم نبوت پر عاشقان رسول کے ایمان و اعتقاد پر کسی قسم کا ابہام پیدا کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونی چاہیے۔ یہ حقیقت ہے کہ ختم نبوت سے متعلق الکیشن ایکٹ کی بحالی ''کی محمدؐ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں''کی عملی تعبیر و تفسیر مہیا کر دی ہے، اسے تاریکی و انتشار میں روشنی کی کرن سے تعبیر کرنا چاہیے۔ سیاست دان اگر اسی جذبہ حب الوطنی، دردمندی، جمہوری کمٹمنٹ اور قومی اقدار و دینی معاملات میں ایک پیج پر رہیں تو کسی بات کا ڈر نہیں۔