ن لیگ کا منشور یا میرا منشور
میاں صاحب کے اس منشور میں شروع کا ایک حصہ موجود نہیں ہے اور وہ ہے ہمارے حکمرانوں کا ذکر۔
سب سے پہلے تو میں اپنے پاکستانی اشرافیہ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ ان کا دشمن شاویز مر گیا ہے، وہ بہت دور کئی سمندروں پار کے ملک ونزویلا کا لیڈر اور صدر تھا لیکن اس نے اپنی زندگی عوام کی زندگی بنا لی تھی اور اس طرح اس نے اپنے ملک اور عوام کی زندگی بدل دی تھی۔ بہر کیف اس وقت صرف اس کا ذکر ہی مقصود تھا، اللہ پاکستان کے مظلوم اور نادار عوام کو صبر اور حوصلہ دے کہ بہت دور سہی لیکن ان کا ایک سچا دوست مر گیا۔
اب مقامی باتیں کہ مجھے جناب میاں نواز شریف کی طرف سے ان کی جماعت کا انتخابی منشور ان کی زبانی سننا تھا اور اس کا میں نے وادی سون کے پہاڑوں جیسا پکا وعدہ بھی کیا تھا لیکن پھر کیا ہوا، اس کو چھوڑئیے اور میاں صاحب سے مجھے معذرت کرنے دیجیے۔ اگرچہ میاں صاحب کو کسی کالم کی محتاجی نہیں، ماشاء اللہ وہ اس معاملے میں ضرورت سے زیادہ خود کفیل ہیں لیکن مجھ پر جو ان کے احسان رہے ہیں، ان کا شکریہ ادا کرنے کا میں ضرور محتاج ہوں۔ ہم لوگ جو صرف برگ سبز کا تحفہ رکھتے ہیں، ان کو کیا پیش کریں سوائے چند لفظوں کے۔ کہتے ہیں کہ الیکشن جیسے عوامی ہنگامے میں بعض اوقات یہ چند لفظ بھی کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔
میاں صاحب نے جو منشور قوم کے سامنے پیش کیا ہے یعنی اقتدار میں ایک بار پھر آنے کے بعد وہ عوام کے لیے کیا کریں گے، وہ ظاہر ہے کہ بہت خوشنما اور حوصلہ افزاء ہے لیکن یہ منشور یوں تو ان کی جماعت ن مسلم لیگ کا ہے لیکن سچ پوچھیں تو یہ ان عوام کا منشور ہے اور ان عوام کی خواہشات کا منشور ہے جو وہ اپنے دلوں دماغوں میں بسائے ہوئے ہیں اور ان خواہشات کی تکمیل کے لیے کسی با اختیار حکمران کے انتظار میں ہیں جو ان پر عمل کر کے ان کی زندگی میں کچھ تو خوشگوار تبدیلی لا سکے۔
میاں صاحب کے اس منشور میں شروع کا ایک حصہ موجود نہیں ہے اور وہ ہے ہمارے حکمرانوں کا ذکر۔ محترم صدر آصف علی زرداری کے مشہور و معروف وسیع حلقہ احباب میں میرا شمار نہیں رہا لیکن پہلے وزیر اعظم بے نظیر شہید کے حوالے سے اور پھر ان کے سیاسی وارث بن جانے کے حوالے سے میں ان سے واقف ہوں علاوہ ازیں ان کے بعض دوست بھی میرے معتمد اور سورس رہے ہیں، ان کے ذریعے بھی میں ان سے ذرا بہتر طریقے سے واقف ہوں اور جب یہ آصف زرداری ملک کے صدر بن گئے تو مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی۔
یوں تو دنیا بھر کے میڈیا نے اس پر اظہار خیال کیا اور ہمارا مذاق اڑایا لیکن میں اس وجہ سے دہشت زدہ ہو گیا کہ اب جو کچھ ہونے والا ہے وہ مجھ پر اور میرے ہموطنوں پر بیتنا ہے، ہمیں چار و ناچار اسے برداشت کرنا ہے اور برداشت کرتے چلے جانا ہے کیونکہ جمہوریت کا انتقام پانچ برس تک جاری رہنا ہے، جناب زرداری صاحب کی اپوزیشن نہ ہونے کی وجہ سے کیا ان کا دماغ خراب ہے کہ وہ خود ہی استعفیٰ دے دیں بلکہ جب بھی ایسی کسی واردات کی بھنک بھی پڑی تو ان کے ہاتھ میں استثنیٰ موجود تھا جسے دیکھ کر سب چپ ہو گئے، چپ تو وہ پہلے بھی تھے۔
پھر ان کی زبانوں پر تالے بھی پڑ گئے کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ انتہائی غیر اسلامی قانون ان کا اپنا بنایا ہوا تھا، اس قانون نے مسلمانوں کے قانون اور آئین جہاں بانی کی جڑ ہی کاٹ دی چنانچہ ہمارے اس عالمی شہرت یافتہ حکمران نے کشتوں کے پشتے لگا دیے۔ ہم لوگ تو بے بس اور بے اختیار تھے ہی ہمارے سیاسی رہنما بھی یہ سب دیکھنے کے باوجود ادھر ادھر ہو گئے یا پھر اپنے لیے کسی آسان وقت کا انتظار کرنے لگے اور یہ آسان ترین وقت الیکشن کا ہے جب کسی ملک کے عوام اپنا کوئی حکمران چنتے ہیں اور مطمئن ہو جاتے ہیں۔
میاں صاحب نے آنے والے انتخابات (؟) کے لیے اپنی پارٹی کا جو منشور جاری کیا ہے، وہ پورے کا پورا نہ صرف قابل عمل ہے بلکہ کچھ کم ہے کیونکہ اس مالا مال ملک کی آمدنی کے ذرایع اگر کسی استثنیٰ کی مار سے بچ جائیں تو یہ ملک دنیا کے دو چار خوشحال ملکوں میں شمار ہوسکتا ہے اور یہ میں کسی خوش فہمی یا قومی زعم میں عرض نہیں کر رہا، دنیا بھر کے ماہرین معاشیات کا فیصلہ یہی ہے، اب میں اس تفصیل میں نہیں جائوں گا۔
دور نہ جائیں ایوب خان کے زمانے میں ہماری خوشحالی کی رفتار کا یہ عالم تھا کہ امریکا کے بعد ماہرین کے مطابق ترقی کی تیز رفتاری میں دوسرا ملک پاکستان تھا لیکن یہاں آپ ایک سانحہ بھی یاد کر لیں کہ محترم بھٹو صاحب نے ایوب خان کی صنعتی ترقی کو قومیا لیا اور زراعت کے لیے مراعات ختم کردیں، یوں یہ ملک واپس اپنی ''آنے والی تھاں'' پر پہنچ گیا۔ اب ان کے جانشینوں کی حکومت نے تمام کسریں نکال دی ہیں اگر کوئی پاکستانی حکمران آئے گا تو اس کا پہلا کام تو ان ظالمانہ خرابیوں کو ختم کرنا ہو گا اور پھر آگے چلنا ہو گا کیوں اس کے سفر میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
میاں صاحب کا منشور ایک کم از کم منشور ہے، پاکستان کے لیے اس سے کہیں زیادہ بڑا منشور ہو سکتا ہے لیکن جیسا کہ عرض کیا ہے، اب جو حکمران بھی آئے گا، اسے پہلے پاکستان کے کھنڈروں کو آباد کرنا ہو گا لیکن مظلوم اور مقہور عوام کو ساتھ ساتھ کچھ سہولت بھی دینی ہوگی کہ وہ مزید مایوس ہو کر خود کش پاکستانی نہ بن جائیں یعنی دو گونہ کام کرنا ہو گا کسی روشن مستقبل کی راہ بھی دکھانی ہو گی اور اس روشنی کے لیے اندھیروں کے چراغ بھی بجھانے ہوں گے، ویسے جیسے کہ عرض کیا ہے یہ منشور صرف ن لیگ کا انتخابی منشور نہیں۔
یہ میرا آپ کا ہم سب کا منشور ہے۔ ن لیگ کے لیڈروں کو تو خدا نے بہت کچھ دے رکھا ہے یا انھوں نے لے رکھا ہے، مارے تو ہم مزدور اور تنخواہ دار گئے ہیں جن کی آمدنی اور بازار میں کوئی مناسبت ہی نہیں۔ منشور میں اس کا ذکر بھی نمایاں ہے۔ میرا ووٹ جماعت اسلامی کے لیے ہے لیکن اسے چونکہ اقتدار سے دلچسپی نہیں ہے، اس طرح میں نواز شریف کو یا عمران خان کو ووٹ دوں گا اور وقت پر اس کی وجوہات بھی عرض کروں گا۔ فی الحال آنے والے الیکشن کے لیے اس پہلے بڑے منشور کا خیر مقدم۔