صحافیوں کا قتل حکومت کی غیر ذمے داری
صحافی تنظیموں کی طرف سے صحافیوں کے لگاتار قتل کے خلاف مظاہرے بھی ہورہے ہیں
پچھلے ایک ہفتے کے دوران تین سینئر صحافیوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کردیا گیا، شمالی وزیرستان میں ملک ممتاز خان کے قتل کے صرف دو روز بعد قلات پریس کلب کے صدر اور سینئر صحافی محمود آفریدی کو قتل کردیا گیا۔ اسی ہفتے کے دوران اے پی پی کے ایک اور سینئر صحافی خوشنود علی شیخ کو گلستان جوہر میں کار سے کچل دیا گیا۔ 2013 کے دو ماہ کے اندر اندر ملک کے مختلف علاقوں میں چھ صحافی قتل کردیے گئے۔ کے یو جے اور پی ایف یو جے کی جانب سے صحافیوں کے اس لگاتار قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ان صحافیوں کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔
لیکن پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والے بے گناہ لوگوں کے قاتلوں کو جس طرح نامعلوم دہشت گرد کا نام دے کر بھلا دیا گیا اسی طرح صحافی برادری سے تعلق رکھنے والے مقتول صحافیوں کے قاتل بھی نامعلوموں کے کھاتے میں چلے گئے اور ان کی گرفتاریوں کا کوئی امکان نہیں۔ سینئر صحافیوں کو تسلسل کے ساتھ جس طرح ٹارگٹ کیا جارہا ہے اس دہشت گردی سے صحافی برادری میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ حکومتی اکابرین کی طرف سے روایت کے مطابق تعزیتی بیانات آتے ہیں اس کے بعد انھیں بھلا دیا جاتا ہے۔
صحافی تنظیموں کی طرف سے صحافیوں کے لگاتار قتل کے خلاف مظاہرے بھی ہورہے ہیں اور سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ بھی کیا جارہا ہے لیکن حکمران طبقات اور اہل سیاست تعزیتی بیانات سے آگے جاتے نہیں دکھائی دے رہے ہیں، حکمرانوں کا یہ رویہ قابل افسوس بھی ہے قابل مذمت بھی۔ ملک بھر میں دہشت گردوں کی طرف سے قتل عام کا جو سلسلہ ایک عشرے سے جاری ہے اسے روکنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کیے جارہے ہیں نہ اس حوالے سے موثر قومی پالیسی بنائی جارہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دہشت گرد آزادی کے ساتھ قتل و غارت کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔
صحافی برادری اور کالم نگار دہشت گردوں کی نظروں میں کانٹے کی طرح اس لیے کھٹکتے ہیں کہ یہ برادری کسی ڈر و خوف کے بغیر دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھاتی ہے۔ یہ گستاخی ایسا واجب القتل جرم ہے جس میں مقتول کا گناہ صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ جان کی پرواہ کیے بغیر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ افسوس اور دکھ کا مقام ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جرأت سے آواز حق بلند کرنے والوں کے تحفظ کا کوئی انتظام نہیں۔ اپنی ڈیوٹیاں ادا کرنے کے بعد انھیں آدھی آدھی رات کو گھر لوٹنا پڑتا ہے اور دہشت گرد رات ہی کو اپنی نظریاتی ڈیوٹیوں پر نکلتے ہیں اور آسانی سے اپنے اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے بار بار یہ وارننگ دی جارہی ہے کہ صحافی ہمارے خلاف لکھنے سے باز آجائیں ورنہ انھیں قتل کردیا جائے گا، اس حوالے سے صحافی برادری کی ہٹ لسٹیں بھی بنائی گئی ہیں اور اپنی ہٹ لسٹوں کے مطابق صحافیوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ دہشت گردوں کی اس بے باکی اور حکومت کی پراسرار خاموشی کی وجہ سے صحافی اس قدر خوف اور مایوسی کا شکار ہیں کہ اپنے پسماندگان کے لیے وصیتیں بھی لکھ رہے ہیں اور اپنی باریوں کا انتظار بھی کر رہے ہیں لیکن اس المناک صورت حال کا ''باری کے منتظر سیاستدانوں'' پر کوئی اثر اس لیے نہیں پڑتا کہ یہ طبقہ مکمل طور پر شیم پروف بن گیا ہے، ان کی پہلی اور آخری ترجیح حصول اقتدار ہے وہ اس دوڑ میں اس بری طرح اندھے ہوگئے ہیں کہ انھیں قدم قدم پر بکھری ہوئی لاشوں کی ذرہ برابر پروا نہیں، نہ ان بے گناہ شہیدوں کے وارثین کے مستقبل کی کوئی فکر ہے۔ بہت بڑا کرم کرتے ہیں تو دو چار لاکھ روپے پسماندگان کو قتل ہونے والوں کی جان کی قیمت کے طور پر ادا کردیتے ہیں۔
خیبرپختونخوا سے کراچی تک لاشوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ پورا پاکستان دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ عام آدمی کے تحفظ کا سوال کس کھاتے میں ہوگا جب مہران بیس، کامرہ بیس، جی ایچ کیو پر حملے ہورہے ہوں، قانون نافذ کرنے والے غیر محفوط ہوں، تھانوں پر حملے ہورہے ہوں، تھانوں کی ہٹ لسٹیں بن رہی ہوں۔ کراچی ایک ایسے جنگل میں بدل گیا ہے جہاں وحشی درندے آزاد پھر رہے ہیں، جس کو چاہیں، جہاں چاہیں گولیوں سے بھون دیتے ہیں، پورا پاکستان ایک بدترین قتل گاہ میں بدل کر رہ گیا ہے۔ بیوروکریسی کے معروف لوگوں کو دن دہاڑے اغوا کیا جارہا ہے، حکومت مفلوج ہے، تھانوں کو خود اپنی سیکیورٹی کی پڑی ہوئی ہے، پولیس موبائلوں، فوجی چوکیوں کو تباہ کیا جارہا ہے، بینکوں سے دن کی روشنی میں کروڑوں روپے لوٹے جارہے ہیں، بچے شارٹ ٹرم اغوا کا شکار ہورہے ہیں جنھیں دو تین گھنٹوں کے اندر تاوان لے کر چھوڑا جارہا ہے۔
سانحہ علمدار روڈ کوئٹہ کی کوریج پر جانے والے الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں اور کیمرہ مینوں کا جو حشر ہوا اس المیے پر بھی زبانی جمع خرچ کے علاوہ کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ دہشت گرد جس ایجنڈے کے ساتھ پاکستان میں تباہی مچائے ہوئے ہیں ہمارے حکمران یا تو اس کے مضمرات کا ادراک ہی نہیں رکھتے یا پھر اس قدر بے حس ہوگئے ہیں کہ انھیں اپنی جان و مال کے علاوہ نہ بے گناہ انسانوں کے ہر روز بہتے ہوئے خون سے کوئی دلچسپی ہے نہ اس ملک اور اس ملک کے عوام کے مستقبل کی کوئی فکر۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر خدانخواستہ یہ انتہاپسند پاکستان پر اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ہمارے حکمران، ہمارے سیاستدان اس شرط پر ان کی اطاعت کرنے ان کے ہاتھوں پر بیعت کرنے پر آمادہ ہوجائیں گے کہ انھیں جان کی امان دی جائے اور اپنے خاندان اپنے مال و اسباب کے ساتھ ترک وطن کی اجازت دے دی جائے، لندن ، نیویارک کے فائیو اسٹار ہوٹل یا سعودی عرب کے شاہی محل ان کی میزبانی کے لیے موجود ہوں گے، جہاں وہ اسٹیل ملیں لگاکر سرے محل خرید کر کئی نسلوں تک اپنی نسلوں کے عیش و آرام کو یقینی بنائیں گے اور اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کو بھیڑیوں کے حوالے کرکے رخصت ہوجائیں گے۔
ایک طرف صحافی ان سیاسی وڈیروں کی کرپشن ان کی نالائقیوں ان کی بدعنوانیوں کا پردہ چاک کر رہے ہیں تو دوسری طرف انسانی تاریخ کی اس سب سے بڑی وبا دہشت گردی کے خلاف بھی سینہ سپر ہیں۔ یہ دو ایسے جرم ہیں جو ان دونوں جڑواں بلاؤں کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ ہمارے جمہوری آقاؤں کے بقول وہ عوام کے منتخب نمایندے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمے داری ہے۔ ہمارے ملک میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک آئین اور قانون کی بالادستی کے قصیدے پڑھے جارہے ہیں اور یہی آئین پاکستانی شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
کہاں ہے آئین، کہاں ہے انصاف، کہاں ہے وہ حکومت جو آئین پر عملدرآمد کی ذمے دار ہے، کہاں ہے وہ انصاف جو آئین کی حرمت کا دعویدار ہے؟ غریب اور بے بس عوام تیتر بٹیر کی طرح شکار ہورہے ہیں، خیبر سے کراچی تک سڑکوں پر لاشیں بچھی ہوئی ہیں، ان لاشوں کے نوحوں سے آسمان تھر تھرا رہا ہے اور ہمارے حکمران ہمارے ریاستی ادارے انتخابات کو سر پر اٹھائے پھر رہے ہیں، عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جو سیاستدان دہشت گردوں کی مدد سے انتخابات جیتیں گے کیا وہ دہشت گردی ختم کرسکتے ہیں؟ کیا ہمارے مستقبل کے حکمران ان طاقتوں کی ناک میں نکیل ڈال سکتے ہیں جو جمہوریت، انتخابات، سیاست اور سیاستدانوں کو کفر کہتے ہیں؟ کیا ہمارے موقع پرست میڈیائی دانشور ان خطرات کو محسوس کر رہے ہیں جو اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کے سروں اور اس ملک کے مستقبل پر تلوار کی طرح لٹک رہے ہیں؟