پرانی گاڑیوں کی درآمد ایج لمٹ 10 سال تک بڑھانے کا مطالبہ

درآمدی پالیسی میں نرمی سے چند کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی، تاجر وصنعتکار


Business Reporter March 09, 2013
درآمدی پالیسی میں نرمی سے چند کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی، تاجر وصنعتکار۔ فوٹو: فائل

مقامی تاجروصنعت کاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کوپسندیدہ ملک کادرجہ دیتے ہوئے عوام کومہنگے اوراضافی رقم کی ادائیگی کے باوجود کسٹمرز کوبروقت گاڑیوں کی عدم فراہمی کے حامل آٹو انڈسٹری سے نجات دلائے۔

تاجروصنعتکاروں کا کہنا تھا کہ بھارت اور جاپان سے 5، 7 اور 10 سالہ پرانی گاڑیاں درآمدکرنے کی اجازت دی جائے تاکہ مقامی آٹوموبائل سیکٹر میں چند کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہوسکے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں گاڑیاں فروخت کرنے والی کمپنیوں کی اجارہ داری اور گاڑیوں کی ایڈوانس بکنگ کے باوجود گاڑیوں کی عدم فراہمی سمیت اضافی قیمتوں کی وصولی نے عوام کو سستی گاڑی خریدنے کی خواہش کو صرف خواب تک ہی محدود کردیا۔

2

آٹوانڈسٹری کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے مسابقتی کمیشن کے بعد فیڈرل بورڈآف ریونیوکی جانب سے اسمگل شدہ اورنان ڈیوٹی پیڈ گاڑیوں کو ریگولرائز کرنے کیلیے ایمنسٹی اسکیم 31مارچ تک جاری ر کھنے کے اعلان کے بعد آٹوانڈسٹری نے مختلف حربے استعمال کرنا شروع کردیے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈآف ریونیو کی جانب سے اسمگل شدہ اورنان ڈیوٹی پیڈ گاڑیوں کو ریگولرائز کرنے کیلیے ایمنسٹی اسکیم 31 مارچ 2013 تک جاری رکھنے کی سمری وزارت خزانہ کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جسٹس اینڈ لا ڈویژن کو ارسال کردیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی کے بعد تقریبا ایک لاکھ گاڑیاں ریگولرائز ہوجائیں گی اور ایمنسٹی اسکیم میں مختلف درجوں میں 60 سے 72 فیصد ڈیپری سی ایشن دستیاب ہوگا۔ ذرائع نے بتایا کہ ملک میں3، 5 سال کے بعد 10 سالہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدبے حد ضروری ہے اوراسوقت بھی ملک میں 600 سی سی جاپانی گاڑیاں ملک میں گاڑیاں بنانے والی مختلف کمپنیوں کے مقابلے میں بے حدپائیدار ہیں اورعوام کو سستی گاڑیاں دستیاب ہورہی ہیں۔