حکومت دو تہائی اکثریت پوری نہ کر سکی سینیٹ میں حلقہ بندیوں کا بل پھر موخر

 صرف40ارکان شریک،پی ٹی آئی،فاٹاارکان غائب،قائد ایوان کی تجویزپربل کل تک موخر


News Agencies/Numainda Express November 21, 2017
آئین انسان نے بنایا،غلطیوں کودرست کیاجاسکتاہے،جاویدعلی شاہ، فوٹو: فائل

حکومت کوسینیٹ میں حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیمی بل پرایک بارپھرسبکی کا سامنا کرنا پڑا اور دوتہائی اکثریت پورا نہ کرسکنے پر یہ اہم بل منظور نہ ہوسکا۔

گذشتہ روزاجلاس شروع ہوا تو صرف40 ارکان موجود تھے۔ اس دوران تحریک انصاف اور فاٹا کے ارکان مکمل طور پر غیر حاضررہے۔ قائد ایوان راجا ظفرالحق نے تجویز پیش کی کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیم کا ایجنڈا بدھ تک موخر کردیا جائے کیونکہ ایوان میں مطلوبہ تعداد موجود نہیں ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے قائدایوان کی تجویز مان لی اورمعاملہ بدھ تک موخر کردیا۔

اجلاس میں کئی حکومتی ارکان کے علاوہ وزرا اور پارلیمانی سیکریٹری بھی غائب تھے۔ اس سے پہلے جمعے کو بھی ارکان کی کم حاضری کے باعث آئینی ترمیم کی منظوری کاعمل موخر کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیم کی منظوری قومی اسمبلی سے حاصل کی جاچکی ہے،سینیٹ سے منظوری کے بعد صدرمملکت کے دستخط سے یہ باقاعدہ ایکٹ بن جائے گا۔

ایوان نے شراب پی کر غل غپاڑہ کرنے والوں کیلیے سزائیں سخت کرنے کی سفارش پرمبنی فوجداری قوانین ترمیمی بل منظور کرلیا۔ بل میں شراب پی کر غل غپاڑہ کرنیوالے کو2سے7دن تک قید رکھنے اورکم سے کم10ہزار روپے جرمانہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس وقت شراب پی کر غل غپاڑہ کرنے کی سزاچندگھنٹے قید اور30 روپے جرمانہ ہے۔ ایوان نے جادوٹونے کی ممانعت کے متعلق بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ یہ دونوں بل چوہدری تنویر نے پیش کیے تھے۔ اعتزازاحسن نے جادوٹونے کی ممانعت کے متعلق بل کے متن پر اعتراضات کرتے ہوئے کہاکہ چوہدری تنویرکی نیت پر شک نہیں تاہم بل میں غیرسائنسی اصطلاحات شامل کی گئی ہیں۔

اجلاس میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی رخصت کی درخواست بھی پیش کی گئی جس کی چیئرمین نے منظوری دے دی۔ ایوان نے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی طاہر مشہدی کی قرارداد بھی منظورکرلی۔ وزیرآبی وسائل جاوید علی شاہ نے کہاکہ آئین انسان کا بنا ہوا ہے اس میں غلطیوں کو درست کیا جاسکتا ہے۔ اس پر چیئرمین رضا ربانی نے وفاقی وزیرکومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ بہت شکریہ، یہ آپ نے مشرف والی لائن استعمال کی ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید وضاحت کرنا چاہی مگر چیئرمین نے مائیک بند کردیااور کہاکہ آپ تشریف رکھیں، میںآئین کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ سینیٹر رحمان ملک نے بتایا کہ جعلی دوائیں بنانیوالوں کو موت کی سزا ہونا چاہیے۔ وفاقی وزیر بلیغ الرحمان نے بتایاکہ جعلی دواؤں کی فروخت کی روک تھام کیلیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں