لاوارث بلدیاتی ادارے
پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں کسی جمہوری حکومت نے ملک میں بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے
یہ کیسی دلچسپ اور حیرت انگیز بات ہے کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں کسی جمہوری حکومت نے ملک میں بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے، اچھے برے بلدیاتی نظام فوجی ڈکٹیٹروں ہی کے دور میں قائم کیے گئے۔
ہمارے ملک میں جمہوریت ابھی تک لولی لنگڑی ہے اور سیاسی مفکرین اس لولی لنگڑی جمہوریت کو آمریت سے بہتر قرار دیتے ہیں۔ بلدیاتی نظام کو جمہوریت کی نرسری کہا جاتا ہے جس ملک کے سیاستدان نرسری ہی کو مفلوج کرکے رکھتے ہوں، اس ملک میں جمہوریت کے فروغ کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔ ہمارے ملک میں اگر جمہوریت کو فروغ دینے اور اسے عوامی بنانے کی کوشش کی جاتی تو آج جمہوریت کی وہ شکل نہ ہوتی جس میں عوام کا حصہ صرف 5 سالوں میں ایک بار اشرافیہ کے حق میں ووٹ ڈالنے تک محدود ہے۔
پہلی بار شدید عوامی اور میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کروائے گئے لیکن یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ منتخب بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات سے محروم کردیا گیا ہے۔ بلدیاتی اداروں کی دنیا بھر میں اہمیت کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ بلدیاتی ادارے عوام کے مقامی اور علاقائی مسائل حل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہوتے ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسری کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں تو سیاستدانوں کی پہلی تربیت بلدیاتی اداروں ہی میں کی جاتی ہے اور قومی سیاست میں داخل ہونے سے پہلے امیدواروں کو بلدیاتی اداروں میں عملی تربیت حاصل کرنا پڑتی ہے۔ بلدیہ میں عوامی خدمات کا سرٹیفکیٹ لے کر ہی کوئی قومی سیاست میں داخل ہونے کا حقدار بنتا ہے لیکن تربیت اور تجربے کا یہ کورس ان ملکوں میں جاری رہتا ہے جہاں جمہوریت عوامی ہوتی ہے اور قانون ساز اداروں میں عوام کے حقیقی نمایندے ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہماری سیاست کبھی عوامی نہیں رہی ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری جمہوریت بھی عوامی نہ رہی بلکہ اشرافیائی بن کر رہ گئی۔ اشرافیہ اپنی فطرت میں کلی اختیارات کی خواہش مند ہوتی ہے۔ بلدیاتی نظام میں بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات حاصل ہوتے ہیں چونکہ اختیارات کی تقسیم اشرافیہ کی فطرت اور مفادات کے خلاف ہوتی ہے ۔ اسی لیے حکمران اشرافیہ بلدیاتی اداروں کی مخالف رہتی ہے، اختیارات کی تقسیم کا خوف ہی ہماری اشرافیائی جمہوریت پر حاوی رہتا ہے اور اسی خوف کا نتیجہ ہے کہ کسی اشرافیائی جمہوریت میں نہ بلدیاتی انتخابات کروائے گئے نہ بلدیاتی نظام کو پنپنے دیا گیا۔
سال 2013 کے انتخابات کے نتیجے میں جو حکومتیں برسر اقتدار آئیں اگر وہ عوام سے مخلص ہوتیں اور عوامی مسائل حل کرنا چاہتیں تو بلدیاتی اداروں کوکام کرنے کی آزادی دیتیں اور انھیں مالی اور انتظامی اختیارات دیتیں لیکن چونکہ حکمران طبقات نہ عوام سے مخلص ہیں نہ اختیارات کی تقسیم پر آمادہ ہیں اسی لیے بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات سے محروم رکھا گیا ہے اور وہ اربوں روپوں کے فنڈز جو بلدیاتی اداروں کا حق ہیں وہ اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو دے رہی ہیں جو ان بھاری فنڈزکے حقدار نہیں ہیں۔
میڈیا کی خبروں کے مطابق ایم این ایز کو 94 ارب روپوں کے فنڈز دیے گئے ہیں اور ہماری اشرافیائی روایت کے مطابق یہ بھاری فنڈز عوام کے علاقائی مسائل کے حل میں استعمال کرنے کے بجائے خرد برد میں استعمال ہوں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے لیکن جمہوریت کے دوستوں اور حامیوں کی جانب سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا رہا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو ان کے چھینے ہوئے مالی اور انتظامی اختیارات واپس دیے جائیں؟ ہماری فکری ایلیٹ کی یہ عجیب روایت رہی ہے کہ وہ لولی لنگڑی جمہوریت آمریت سے بہتر ہوتی ہے کہ فلسفے کا سہارا لے کر اشرافیائی جمہوریت کی حمایت تو کرتی ہے لیکن ان زیادتیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتی جو بلدیاتی اداروں کی حق تلفی کی شکل میں کی جا رہی ہیں۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں دو کروڑ کے لگ بھگ عوام رہتے ہیں اسی شہر کا عالم یہ ہے کہ یہاں کے رہنے والوں کو پینے کا پانی دستیاب نہیں ۔ جو پانی سپلائی کیا جا رہا ہے اس کے بارے میں میڈیا میں یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ اس پانی میں گٹرکا پانی مکس ہوتا ہے ۔ شہر کا ہر علاقہ کچرے کے ڈھیر میں بدلا ہوا ہے ترقیاتی کاموں کے نام پر جگہ جگہ کھدائی کی جاتی ہے لیکن ان گڑھوں اورکھڈوں کو بھرنے کی زحمت نہیں کی جاتی جو ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کھودے جاتے ہیں۔
3 کروڑ انسان عشروں سے ٹرانسپورٹ کی سہولتوں سے محروم ہیں عوام بسوں، منی بسوں کے دروازوں سے لٹک کر اور چھتوں پر بیٹھ کر سفر کر رہے ہیں ۔ سرکار کی طرف سے وقفے وقفے کے ساتھ یہ اعلانات کیے جاتے ہیں کہ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے پانچ سو، چھ سو بسیں بس آنے ہی والی ہیں لیکن یہ بسیں آکر نہیں دیتیں۔ شہر میں صرف تین بڑے سرکاری اسپتال ہیں جو کروڑوں شہریوں کو صحت کی سہولتیں ہرگز فراہم نہیں کرسکتے لیکن کوئی حکومت شہریوں کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ شہر میں سرکاری تعلیمی ادارے یتیم خانوں کی سی صورتحال سے دوچار ہیں۔ یہ سارے کام بلدیاتی اداروں کی ذمے داری ہوتے ہیں جب بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات سے محروم کر دیا جائے گا تو پھر بلدیاتی ادارے کس طرح اپنی ذمے داریاں پوری کرسکیں گے؟
یہ ساری خرابیاں ہماری اشرافیائی جمہوریت کی پیدا کردہ ہیں جمہوری قیادت، بلدیاتی اداروں کے ذریعے ہی پیدا کی جاتی ہے اور ہماری اشرافیہ اس حقیقت سے پوری طرح باخبر ہے کہ بلدیاتی نظام کو فعال رکھا گیا تو ان اداروں سے سیاسی قیادت ابھرے گی اور یہ قیادت نچلے طبقات پر ہی مشتمل ہوگی اور اشرافیہ سیاست میں نچلے طبقات کی قیادت کو آگے آنے دیتی ہے تو اس کی 70 سالہ اجارہ داری ختم ہوجاتی ہے۔ یہ ہے وہ خوف جو بلدیاتی اداروں کو مفلوج کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمارے ان دوستوں کی یہ ذمے داری ہے جو آنکھ بند کرکے جمہوریت کی مالا جپتے رہتے ہیں کہ وہ اشرافیائی حکومتوں کے کردار کو سمجھیں اور بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیار دینے کا مطالبہ کریں۔