دھرنے پر عدالت عظمیٰ کے صائب ریمارکس

حکومت بدستور معذرت خواہانہ، فرسودہ اور بزدلانہ حکمت عملی سے دستبردار نہیں ہوئی


Editorial/editorial November 25, 2017
حکومت بدستور معذرت خواہانہ، فرسودہ اور بزدلانہ حکمت عملی سے دستبردار نہیں ہوئی۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے ملکی صورتحال اور اسلامی تاریخ کے وسیع تر تناظر میں حکومت اور ریاستی اداروں کو انتہائی سنجیدہ، فکر انگیز اور چشم کشا احکامات دیے ہیں، عدالت عظمیٰ نے آئی ایس آئی اور آئی بی کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے مایوس کن قرار دیا اور مفصل رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت آیندہ جمعرات تک ملتوی کردی۔ حقیقت یہ ہے کہ عدلیہ نے دھرنے کے سیاق وسباق میں قرآنی تعلیمات، حضور پاکﷺ کے اسوۂ حسنہ، سیرت النبی کے بیش بہا عملی مظاہر اور ان کی تعلیمات، مسلم ہسٹری سے متعلق تاریخی واقعات، اسلامی ریاست، حکومت، حقوق العباد، مسلم معاشرے کی ہیئت ترکیبی پر فکر انگیز ریمارکس دیے۔

دوران سماعت عدالت نے آبزرویشن دی کہ ریاست ہر شہری کی آئینی ذمے داری ہے جن کے لیے آرٹیکل 5 قابل قبول نہیں تو وہ پاکستانی شہریت چھوڑ دیں، تاہم جامع تاریخی، سماجی اور سیاسی تقابل کے بعد بھی عدالت عظمیٰ کی یہ ہدایت ایک گریس پیریڈ ہے کہ حکومت اپنی ذمے داری پوری کرے، جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ اداروں کو بدنام کیا جا رہا ہے، ہم کوئی احکام نہیں دیں گے، عدلیہ نے حکمرانوں کو یاد دلایا کہ یہاں سٹرٹیجک اثاثے پڑے ہیں، دھرنے کے مضمرات کے حوالہ سے سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اس عمل سے اسلام کی عظمت بڑھ نہیں رہی، ریاست میں رہنا مشکل ہورہا ہے۔ اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو عدالت عظمیٰ نے دھرنے سے متعلق طرز حکمرانی میں مضمر تضادات، بدانتظامی، لیت ولعل، نااہلیت اور ادارہ جاتی تساہل پر کڑی گرفت کی ہے جو ملکی سیاسی بحرانوں کے تناطر میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے غوروفکر کا سامان لیے ہوئے ہے۔

یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ عدلیہ نے پیدا شدہ صورتحال میں بہت سارے ایسی نازک سوالات اٹھائے ہیں جن کا جواب دیے بغیر وزارت داخلہ و وزارت دفاع اور دیگر اداروں کے حکام بری الذ مہ نہیں ہو سکتے، عدالتی ریمارکس درحقیقت تاریخی حوالوں سے لیس ہیں اور جن کی گونج ہی حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے کافی ہے۔ یوں بھی دیکھا جائے تو ملک ناقابل بیان چیلنجز سے دوچار ہے، اعصاب شکن بحرانی کیفیت کے باعث سیاست، سماج، معیشت سمیت داخلی و خارجی حالات خطرات سے خالی نہیں، دشمن قوتوں کی حریصانہ نظریں مادر وطن پر مرکوز ہیں اور سیاست دانوں کو پوائنٹ اسکورنگ سے فرصت نہیں، کیا یہ کھردرا سچ نہیں کہ حکومت بدستور معذرت خواہانہ، فرسودہ اور بزدلانہ حکمت عملی سے دستبردار نہیں ہوئی اور کسی قسم کی پرو ایکٹیو پالیسی سے صورتحال کو قابو میں لانے کا کوئی فارمولہ اس کے پاس نہیں، جب کہ یہ آفاقی اصول ہے کہ جمہوری حکومت کو جو عوامی ووٹوں سے منتخب ہوتی ہے اسے اس بات کا خیال رہنا چاہیے کہ امن پسند اور ملکی آئین کے پابند شہری جب ریاست کے سائبان جیسے مشفقانہ تصور اور جمہوریت کے حقیقی ثمرات سے بھی محروم ہو جائیں تو ان کے لیے ریاست جبر کا استعارہ بن جاتی ہے اور حکمران محض رعایا کو دبا کر رکھنے کی ظالمانہ اور نوآبادیاتی حکمت عملی پر مستقل کاربند۔

اگرچہ وفاقی کابینہ نے گزشتہ روز دھرنے کی طوالت پر تشویش ظاہر کی مگر بعد از خرابیٔ بسیار، نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر داخلہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ دھرنا ختم کرانے میں ناکامی عدالتی احکام کو نیچا دکھانے کی کوشش ہے، مزید یہ کہا کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ وزیر داخلہ یا وزیراعظم بھی عدلیہ کے حکم کے خلاف کیسے جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ عدالت عالیہ نے گزشتہ سماعت پر دھرنا ختم کرانے کے لیے حکومت کو دو روز کی مہلت دی تھی جب کہ گزشتہ روز حکومت کو دھرنا ختم کرنے کے لیے عدالت کو حقائق سے آگاہ کرنا تھا، عدلیہ کو چیف کمشنر اسلام آباد نے بتایا کہ ہمیں حکومت نے روکا ہوا ہے۔

بعد ازاں چیف کمشنر نے عدالت میں یہ بھی موقف اختیار کیا کہ وزیر داخلہ نے عدالت میں بھی کہا تھا کہ انھوں نے انتظامیہ کو کارروائی سے روکا ہوا ہے تاکہ دھرنا والوں سے مذاکرات جاری رہ سکیں۔ علاوہ ازیں سیکریٹری داخلہ نے عدالت کو بعض حقائق کے حوالہ سے کہا کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جو وہ کھلے عام نہیں کہہ سکتے، چیمبر میں بتا سکتے ہیں، تاہم انھوں نے عدلیہ کو یقین دلایا کہ ریاست کے لیے وہ ہر ممکن کام کر رہے ہیں اور کریں گے۔ بلاشبہ پانی سر سے اونچا ہو رہا ہے۔ حکومت اور ریاستی اداروں پر لازم ہے کہ وہ ملک میں امن و استحکام کو لاحق خطرات سے نمٹنے میں کسی تساہل سے کام نہ لیں۔ جمہوری قیادتوں کا امتحان بحران ہی لیتے ہیں، اسلامی تاریخ اور دنیا ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جب مغلوب و محکوم طاقتوں نے غلامی کے خلاف بغاوت کی اور ان کے جان نثار قائدین نے تاریخ کا دھارا پلٹ کر رکھ دیا۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور انتظامی و قانون نافذ کرنے والے ادارے فیض آباد صورتحال کو انتہائی دانشمندی سے حل کرنے کی جستجو میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں، عدالت عظمیٰ نے دھرنا ختم کرانے کے لیے جن حقائق سے اہل اقتدار کو آگاہ کیا وقت آگیا ہے کہ صائب ایکشن کے ذریعہ مسئلہ کا حل نکالا جائے۔