اسلامی فوجی اتحاد کا سیٹ اپ قائم کرنے کا فیصلہ

بہتر حکمت عملی یہی ہے کہ جن مسلم ملکوں کو اس اتحاد پر تحفظات ہیں ان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں


Editorial November 28, 2017
اکتالیس ممالک کے فوجی اتحاد کا اعلان دوسال قبل کیا گیا تھا تاہم افتتاحی اجلاس اب ہوا ہے، فوٹو: اے ایف پی

سعودی عرب میں ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد سلمان کی سربراہی میں 41 رکنی اسلامی فوجی اتحاد کے وزرائے دفاع کے اجلاس کا آغاز ہو گیا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اسلامک ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کولیشن ( آئی ایم سی ٹی سی) کے اجلاس کا افتتاح کیا۔41اسلامی ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد کے باقاعدہ قیام کے اعلان کے بعد اب اس کا فوجی سیٹ اپ قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مذکورہ اتحاد کا سیٹ اپ بری ، بحری اور فضائی افواج پر مشتمل ہوگا، اس اتحاد کا باقاعدہ فوجی اسٹرکچر بھی قائم کیا جائے گا۔ اس سیٹ اپ کے قیام کے لیے جلد رکن اسلامی ممالک کے فوجی سربراہوں اور دیگر اہم حکومتی حکام کا اجلاس مشاورت سے طلب کیا جائے گا، اس اجلاس میں فوجی سیٹ اپ کے قیام کے لیے اہم حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی ۔

41ممالک کے فوجی اتحاد کا 2سال قبل اعلان کیا گیا تھا تاہم اب سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مختلف اسلامی ممالک پر مشتمل اسلامی فوجی اتحاد کے قیام کے لیے وزرائے دفاع کی کانفرنس کے انعقاد کا مقصد اس فوجی اتحاد کے قیام کا باقاعدہ اعلان ہے، اس اتحاد کے قیام کا ایجنڈا طے ہونے کے بعد اب اس کا اگلا مرحلہ فوجی سیٹ اپ کا قیام ہوگا۔

اس حوالے سے مذکورہ اتحاد میں شامل ارکان ممالک طے کریں گے کہ آیا وہ کس انداز میں فوجی سیٹ اپ کے قیام کے لیے مالی یا دفاعی سطح پر معاونت کریں گے، اس فوجی اتحاد کا اسٹرکچر مکمل طور پر عام فوجی سیٹ اپ کے طرز پر قائم کیا جائے گا۔ اس اتحاد کا فوجی سیٹ اپ بری، بحری، فضائی، انٹیلی جنس اور دفاعی نظام پر مشتمل ہوگا، اس فوجی سیٹ اپ کے قیام کے لیے ارکان ممالک طے کریں گے کہ وہ اپنے کتنے حاضر سروس فوجی افسران اور جوانوں کی خدمات کو اس اتحاد کے سپرد کریں گے؟ اور آیا کہ مذکورہ اتحاد کے فوجی اڈے کن ارکان اسلامی ممالک میں قائم ہوں گے؟

دہشت گردی سے سب سے زیادہ اسلامی ممالک متاثر ہوئے ہیں' حیرت انگیز امر ہے کہ دہشت گردوں کے ایسے طاقتور جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے مسلح گروہ وجود میں آئے جن کے سامنے مسلم حکومتیں بے بس ہو گئیں' اس کی واضح مثال داعش ہے جس نے نہایت سرعت سے عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر لی' سب سے پریشان کن صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب داعش کا دائرہ کار بڑھتے بڑھتے دیگر مسلم ممالک کو متاثر کرنے لگا' افغانستان میں بھی داعش کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

اس صورت حال میں یہ ناگزیر ہو گیا تھا کہ مسلم ممالک دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں۔ پاکستان آرمی کے سابق سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف جو اس اسلامی فوجی اتحاد کے کمانڈر بھی ہیں انھوں نے اتحاد کے وزرائے دفاع کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بالکل صائب کہا کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے ناسور سے سب سے زیادہ مسلم امہ متاثر ہوئی، گزشتہ6 برس میں دہشتگردی سے ہونے والی اموات میں سے70فیصد مسلم ممالک میں ہوئیں، حالیہ برسوں میں 70 ہزار دہشتگرد حملے ہوئے ہیں جن میں2 لاکھ افراد جاں بحق ہوئے، دہشت گردی سے اسلامی دنیا کے کئی ممالک متاثر ہوئے جب کہ ان حالات کا سب سے زیادہ اثر عراق، افغانستان اور پاکستان پر ہوا۔

انھوں نے اس اتحاد کا مقصد بیان اور اس کے بارے میں پیدا ہونے والی بدگمانیوں کو دور کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک کا اتحاد کسی ملک یا فرقے اور مذہب کے خلاف نہیں بلکہ انسداد دہشت گردی کے لیے ہے۔ اتحاد کا مقصد دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہے، دنیا بھر میں دہشتگردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے تمام ریاستیں انفرادی طور پر کام کر رہی ہیں لیکن انفرادی طور پر اس سے نمٹنے کے لیے مسلم ریاستوں کے پاس وسائل نہیں ہیں اس لیے اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد بنایا گیا ، یہ اتحاد اپنے اتحادیوں کو دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس کا تبادلہ اور استعداد بڑھانے میں تعاون کریگا۔

جن مسلم ممالک کو اس اتحاد کے بارے میں تحفظات ہیں ان کے تحفظات دور کر کے انھیں بھی اس اتحاد میں شامل کیا جائے تو اس سے اس کو زیادہ تقویت ملے گی اور یہ زیادہ موثر طریقے سے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے گا۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد ایک اچھی بات ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض مسلم ممالک کو اس کے اغراض و مقاصد کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں 'بہتر حکمت عملی یہی ہے کہ جن جن مسلم ملکوں کو اس اتحاد پر تحفظات ہیں ان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں اور انھیں بھی اس میں شامل کیا جائے۔