ٹیکس وصولی نظام میں بہتری کی ضرورت ہے چیئرمین نیب

بد عنوانی سے متعلق عوامی شکایات کاقانون کے مطابق ازالہ کیا جارہا ہے، جسٹس جاوید اقبال


Numainda Express November 28, 2017
کسی بے گناہ کو بار باربلانے اور ہراساں کرنیوالوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ فوٹو: فائل

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ٹیکس وصولی کے نظام میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والی موبائل فون کمپنیاں مبینہ طور پر رپورٹس کے مطابق حکومت پاکستان کو تقریباً400 ارب روپے کاسالانہ ٹیکس ادا نہیںکرتیں جس کی وجہ سے قومی خزانے میںہرسال تقریباً 400 ارب روپے جمع نہیں کرایا جارہا، ایف بی آرکی کارکردگی خصوصاًٹیکس وصولی کے نظام میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ پاکستان بیرونی سرمایہ کاری کیلیے بہترین ملک ہے مگر ہمیں اپنے قومی مفادات کے تحفظ کیلیے قانون کے مطابق ٹیکس وصول کرنے کیلیے ہر ممکن اقدامات کرنے چاہئیں۔ انھوںنے کہاکہ نیب کے 7 علاقائی بیوروز ہیں جن کے انچارج متعلقہ ڈائریکٹر جنرلز ہیں جن کو ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بدعنوانی سے متعلق عوام کی تمام شکایات کانہ صرف قانون کے مطابق ازالہ کیا جارہا ہے بلکہ شکایات کنندگان کو ان کی شکایات کے متعلق بروقت آگاہ کیا جارہاہے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ اب ایک مرتبہ قانون کے مطابق انکوائری/انویسٹی گیشن ہونے کے بعد قانون کے برخلاف کھولنے اور کسی بے گناہ کو بار بار نیب میں بلانے اور مبینہ طور پر ہراساں کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 

مقبول خبریں