دھرنے کے چشم کشا اثرات و مضمرات

اس وقت ملک کو سیاسی استحکام اور معاشی ترقی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے


Editorial November 30, 2017
اس وقت ملک کو سیاسی استحکام اور معاشی ترقی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

فیض آباد دھرنے کا معاہدہ کی صورت خاتمہ خوش اسلوبی سے ہوا ہے اور اس کی بنیادی منطق ملکی سالمیت، اداروں کے استحکام، سیاسی وجمہوری عمل کے تسلسل اور قومی یکجہتی پر عوام کا غیر متزلزل ایمان تھا، ورنہ ہزاروں خواہشیں تھیں کہ بس دل کا جانا ٹھہر گیا ہے، دھرنے کے مظاہرین کی واپسی کار دشوار نظر آتا تھا، مضطرب اور اپنے مقصد کے حصول پر مذہبی انبوہ کثیر کا استقامت سے قائم رہنا اور ادھر بے محابہ ریاستی رٹ تھی جسے قائم رکھنے کے لیے طاقت کے بہیمانہ استعمال کے مشورے بھی دیے جارہے تھے، مگر واقعہ یہ تھا کہ ایک ''دستِ تہہ سنگ'' اور سہمی ہوئی حکومت سے یہاں بھی ڈو مور کی توقع کی جارہی تھی۔

تاہم شکر ہے راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر شہروں میں امن بحال ہوا، لاہور میں البتہ دھرنا جاری ہے جسے علمائے کرام مفاہمت اور خیرسگالی کے جذبہ سے ختم کرنے میں حکومت کی مدد کریں۔ فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کے خاتمے کے بعد جڑواں شہروں میں معمولات زندگی مکمل بحال ہوگئے، بیس روز سے بند میٹرو بس سروس بھی دوبارہ چل پڑی، اسلام آباد میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں نے دھرنے کی جگہ صفائی ستھرائی مکمل کرلی تاہم جگہ جگہ اکھاڑے گئے گرین بیلٹ کی بحالی کا کام باقی ہے جب کہ رینجرز کے دستے اور پولیس کی بھاری نفری تاحال فیض آباد کے اردگرد تعینات ہے، وزارت داخلہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت رینجرز کو 3 دسمبر تک تعینات کیا گیا، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری بائیس روزہ دھرنا ختم ہونے کے بعد منگل کو شہر بھر کے تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں، ملکی حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ تعلیم کا تھا، امتحانات ملتوی ہوئے، شہریوں کو سفر کی مشکلات پیش آئیں، ارباب اختیار کوشش کریں کہ تعلیمی ادارے معمول کے مطابق تدریسی عمل کو یقینی بنائیں اور آیندہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو جو عوام کے لیے مصائب پیدا کرے۔

حقیقت یہ ہے کہ دھرنے کے اختتام میں معقولیت اور عملیت پسندی کی جیت ہوئی، فریقین نے معاہدہ پر اتفاق کیا اور ملک ایک بڑے المیہ سے بچ گیا، میڈیا اینکرز بھی اسی انداز نظر کو نمایاں کررہے ہیں کہ مصلحت ہی سہی مسئلہ کا کوئی فوری حل تو نکالا گیا۔ تاہم فکری اور تجزیاتی حلقوں میں دو طرفہ بحث ہو رہی ہے کہ ایک تیسری متبادل اور انتخابی صلاحیتوں اور ممکنہ حیران کن ووٹ بینک کی حامل قوت کو آگے آنے کا موقع دیا گیا جو ہوسکتا ہے آیندہ الیکشن کے سیاسی و جمہوری طاقت کے توازن کو متاثر کرکے اپنے لیے راستہ نکال لے۔ بہرحال کسی دلیل کو رد کیے بغیر اسٹیک ہولڈرز کو سوچنا چاہیے کہ مذہبی و دینی قوتوں نے مکالمہ پر انحصار کیا، ریاستی ادارے اور نہ ہی حکومت سرینڈر ہوئی، جمہوری عمل جاری ہے، ملکی امور کی انجام دہی پر مامور حکام، سینیٹ ، وفاقی و صوبائی حکومتیں اپنے فرائض ادا کررہی ہیں، اس لیے دھرنے سے آگے کی بات ہونی چاہیے، ابھی مسائل کے کئی دریا عبور کرنے ہیں، جو اہل نظر اس دلیل پر قائم ہیں کہ ریاست کو سرینڈر نہیں کرنا چاہیے۔

وہ بھی زمینی حقائق اور حکومت کو درپیش مسائل اور اعصاب شکن حالات کا ضرور ادراک کریں۔ اس وقت ملک کو سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور خطے میں تزویراتی بقائے باہمی کی اسٹرٹیجی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جب کہ پیدا شدہ غیر معمولی صورتحال سیاست دانوں اور علمائے کرام سے اس بات کا تقاضہ کرنے میں حق بجانب ہے کہ پیچیدہ حالات میں بھی دوراندیشی، تدبر اور معاملہ فہمی کے گہرے ادراک اور صبر وتحمل کے ساتھ بات چیت اور مفاہمت کو راستہ ملا، مظاہرین سے نمٹنے کے لیے کئی تدابیر پیش نظر تھیں، جتنی مصلحتیں اور مفاہمتیں ممکن ہوسکتی تھیں وہ اس لیے بروئے کار لائی گئیں کہ ملکی استحکام اور سلامتی کو لاحق خطرات کو حد اعتدال سے باہر نہ جانے دیا جائے، چنانچہ حکمراں جماعت اور اپوزیشن جماعتوں میں دھرنے کے دی اینڈ کے صائب اور قابل توضیح پہلوؤں پر معقول استدلال و دلائل کا سلسلہ جاری ہے تو اچھنبے کی بات نہیں، یہ جمہوری عمل ہے ۔

ملک کے فکری، تحقیقی اداروں اور میڈیا میں دھرنے کی اجازت اور اس کی طوالت کے نتیجہ میں صورتحال کے تشویش ناک بن جانے کے بعد معاہدہ اور ثالثی پر خیالات و آرا کے دو مختلف دھارے واضح ہوکر سامنے آئے ہیں، سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ فیض آباد کا دھرنا بھی چشم کشا تھا، اس سے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ کیا جو کچھ ہوا وہ صورتحال کا افسوسناک آف شوٹ اور درد نگیز فال آؤٹ تھا کہ حکومت کے اقدامات کو کہیں سے مکمل حمایت نہیں مل رہی جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ارشادات تو کسی طور نظر انداز نہیں کیے جاسکتے، وزیر داخلہ احسن اقبال کی طرف سے '' ناطاقتی کے طعنے ہیں عذر جفا کے ساتھ'' ایسے انداز بیاں نے ریاست، عدلیہ، مقتدر قوتوں اور اداروں کے مابین ہم آہنگی کی ضرورت کا احساس مزید اجاگر کردیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ حدیبیہ کیس سے دباؤ کی ہوائیں اپنا رخ بدلیں گی۔ لہٰذا حکومتی حلقوں کے بشمول ملک بھر کے فہمیدہ اور سیاسی حلقوں اور تجزیہ کاروں سمیت سول سوسائٹی کو مستقبل کی فکر کرنی چاہیے۔