’ڈو مور‘ کا دور گیا امریکا اپنا رویہ تبدیل کرے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت موقف کے باوجود پاکستانی رویے میں تبدیلی نہیں آئی


Editorial November 30, 2017
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت موقف کے باوجود پاکستانی رویے میں تبدیلی نہیں آئی۔ فوٹو:فائل

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ثابت قدم اور موثر کردار کے باوجود امریکا کی جانب سے ''ڈو مور'' کا سابقہ رویہ سخت خلجان کا باعث ہے، ایک جانب پاکستان سے مزید کارروائیوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو دوسری جانب اس کی تمام تر قربانیوں اور اب تک کی پیش رفت کو لاحاصل قرار دے کر پاکستان پر الزامات لگانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ منگل کو افغانستان کے شمال مشرقی صوبہ قندوز میں افغان حکام کے ساتھ ملاقات اور میڈیا سے گفتگو میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے الزام لگایا ہے کہ طالبان کی سینئر قیادت پاکستان اور نچلی قیادت افغانستان میں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت موقف کے باوجود پاکستانی رویے میں تبدیلی نہیں آئی، ہم نے پاکستان سے بہت واضح اور صاف موقف بیان کیا، پاکستانی رویے میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سرحد پار کارروائی کرنے والے دہشت گردوں کو پاکستان ختم کرے۔ بلاشبہ پاکستان خطے میں مستقل امن و امان کا خواہاں ہے لیکن امریکا پاکستان کی کوششوں سے صرف نظر اختیار کیے ہوئے ہے، جب کہ امریکی کمانڈر جنرل دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ٹھکانوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کے لیے پاکستان پر مزید دباؤ ڈالنے کی باتیں بھی کررہے ہیں۔ پاکستان کئی بار واضح کرچکا ہے کہ اب 'ڈو مور' کا دور گزر چکا ہے، پاکستان نے پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کافی قربانیاں دی ہیں، امریکا کو کم از کم ان کا اعتراف کرنا چاہیے۔

امریکا کے اسی رویے کے باعث دیگر شخصیات کو بھی ہرزہ سرائی کا موقع مل رہا ہے۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے بھی ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں عدم استحکام کا ایک اہم عنصر ہے، پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور ٹریننگ کیمپ ہیں اور وہاں سے انھیں مالی وسائل فراہم کرکے افغانستان بھیجا جاتا ہے۔ پاکستان نے ہر فورم پر امریکا اور افغانستان کے اس موقف کی تردید کی ہے۔

امریکا میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات امریکا کے بھی مفاد میں ہیں، پاکستان کو افغانستان میں ناکامی کا مورد الزام ٹھہرانا غلط ہے، دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے پاکستان نہیں افغانستان میں ہیں۔ انھوں نے واشنگٹن میں صحافیوں کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ امریکا بھارت کو افغانستان میں کردار دے گا تو اس سے وہاں امن نہیں آئے گا، پاکستان اور امریکا افغانستان میں امن چاہتے ہیں لیکن بھارت ایسا نہیں چاہتا۔ صائب ہوگا کہ امریکا بھارتی شرپسندی پر بھی نظر رکھے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کا واضح اعتراف کرے۔