سانحہ لاہور کیخلاف دونوں ایوانوں میں احتجاج قرار داد مذمت منظور متحدہ کا واک آؤٹ

وجوہات کے تعین کیلیے جوڈیشل کمیشن بنایاجائے،قراردادمیں سفارش،مسیحی اتنے ہی خطرناک ہیں توالگ صوبہ بناکر دیاجائے


Numaindgan Express March 12, 2013
وجوہات کے تعین کیلیے جوڈیشل کمیشن بنایاجائے،قراردادمیں سفارش،مسیحی اتنے ہی خطرناک ہیں توالگ صوبہ بناکر دیاجائے،اکرم مسیح فوٹو: فائل

LONDON: سینیٹ اور قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بادامی باغ کے واقعے پر سخت احتجاج کیا اور مذمت کی، قومی اسمبلی میں قرارداد مذمت متففقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر اکرم مسیح گل نے قرارداد پیش کی جس میں کہا گیاکہ یہ ایوان جوزف کالونی میں 175 گھروں کو جلانے کے واقعے کی مذمت کرتاہے اوراس واقعے کو قومی سانحہ قرار دیتا ہے، ایوان کسی بھی مذہب کے رہبر کے خلاف توہین کی مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ اس واقعے کی وجوہات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنایا جائے اور آئندہ اس قسم کے واقعات کے سدباب کے لیے قانون سازی کی جائے۔

قرارداد پر بحث کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے قومی ہم آہنگی اکرم مسیح گل نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال روکاجائے، کسی ایک فردکی سزاپوری کمیونٹی کو نہیں دی جاسکتی۔ اگر مسیحی اتنے ہی خطرناک ہیں تو انھیں الگ صوبہ بناکردیا جائے۔ اے این پی کی رکن بشریٰ گوہر نے کہا کہ یہ واقعہ دہشتگردی اور انتہاپسندی ہے۔ (ن)لیگ کے ملک ریاض نے کہا کہ مجھے واقعے پر افسوس ہے لیکن میرا سوال ہے کہ کراچی میںجوکچھ ہورہاہے، اس میں صوبائی حکومت ملوث ہے؟ آسیہ ناصر نے کہا کہ اقلیتیں غیرمحفوظ ہوکر رہ گئی ہیں لیکن اپنا وطن نہیں چھوڑیں گے۔



خواجہ سعدرفیق نے کہا کہ ابھی ہمارے 5دن باقی ہیں، ایسے اقدامات کریں گے کہ آئندہ کسی کو ایسی حرکت کی جرات نہیں ہوسکے گی، جمعے کو یوم رواداری منایا جائیگا۔ عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ یہ مذہبی نہیں بلکہ انتہا پسندی کا مسئلہ ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ پنجاب حکومت کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کر رہی ہے۔ بعدازاں صدرنشین عبدالغفور چوہدری نے قرارداد ایوان میں پیش کی جس کی متفقہ طور پر منظوری دیدی گئی۔ ایم کیو ایم کے ارکان نے واقعے کے خلاف ایوان سے علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔

سینیٹ میں محسن لغاری اورسعیدغنی کی تحاریک التوا پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم کیوایم کے طاہرمشہدی نے کہا کہ حکومتیں اپنی ذمے داری پوری کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں۔ بادامی باغ کے واقعے سے ملک کی بدنامی ہوئی۔ واقعے کے خلاف طاہرمشہدی نے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ بھی کیا۔ روبینہ عرفان نے کہا کہ ملک جل رہا ہے لیکن قانون نافذکرنے والے ادارے خاموش ہیں۔ کلثوم پروین نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ پولیس تماشائی کیوں بنی رہی۔ سینٹر مشاہد اﷲ نے کہا کہ پوائنٹ اسکورنگ نہ کی جائے ۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ پنجاب حکومت اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ لاہور کے واقعے سے پوری قوم کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ حسیب احمد نے کہا کہ واقعے پر وزیراعظم کو بلایا جائے۔ حاجی عدیل نے کہاکہ ہم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہوگئے۔ سعیدغنی نے کہا کہ ناموس رسالت کے قانون کاغلط استعمال کرنے والوںکوبھی سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ محسن لغاری نے کہا کہ منظم سازش کے تحت مسیحی کمیونٹی کے گھروں کو خالی کراکے آگ لگائی گئی۔