کتابیں جو خود کو پڑھوانی ہیں
مجرموں کو چھوڑنے کے لیے ’’یقین ‘‘ کا فائدہ تو مجرموں کو مل جاتا ہے
KOHAT:
کہتے ہیں کہ شیرنی زندگی میں ایک دو بچے ہی دیتی ہے لیکن وہ سو سو کے برابر ہوتے ہیں ایک ہی جھول میں چار پانچ بچے دیتی ہے لیکن سب مل کر بھی ایک کے برابر نہیں ہوتے اسی سے ملتی جلتی ایک اور کہاوت ہے کہ گھوڑی کے پیٹ میں ہزار روپے کا بچہ ہوتا ہے لیکن کسی کو پتہ بھی نہیں ہوتا جب کہ مرغی ایک چار آنے کا انڈہ دیتے ہوئے انڈا دینے سے پہلے بھی پورا گھر سر پر اٹھا لیتی ہے اور بعد میں بھی حشر برپا کر تی ہے کئی کئی تو برتن توڑ ڈالتی ہے ۔اس وقت ہمارے سامنے بھی قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کی شایع کردہ دو کتابیں پڑی ہیں نہ صرف '' پڑی '' ہیں بلکہ ہم نے '' پڑھی '' بھی ہیں جو واقعی کتابیں ہیں۔ ایک ہے باتیں سیاست دانوں کی جو معروف صحافی ضیاء شاہد کی ان چشم دید اور گوش شنید یاد داشتوں پر مبنی ہے جو انھوں نے پاکستان کے معروف سیاستدانوں سے ملنے کے بعد ذھن میں محفوظ رکھی ہیں۔
ایوب خان سے لے کر عمران خان تک اور سید مودودی سے لے کر موجودہ مذہبی لیڈروں تک کے تمام معروف سیاستدانوں کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب میںانھوں نے کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی ہے بلکہ کھل کر وہ سب کچھ صفحہ قرطاس پر لے آئے ہیں جو ابھی تک صیغہ راز میں تھا ۔اس کتاب میں ان سیاستدانوں کی خوبیوں اور خامیوں دونوں کو اچھی طرح اجاگر کیا گیا ہے اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ چاہتے کیا تھے اور ہو کیا گیا ہے یا کر کیا گئے ۔ایک طرح سے اس کتاب کو ہم پاکستان کی سیاسی تاریخ بھی کہہ سکتے ہیں حالانکہ مصنف نے خود کو صرف ان باتوں تک محدود رکھا ہے جو انھوں نے براہ راست سنی یا دیکھی ہیں۔
سنی سنائی باتوں سے کوئی تغرض نہیں کیا ہے۔خاص طور پر یحییٰ خان کے وقت میں مشہور ہونے والی '' اقلیم اختر '' عرف جنرل رانی کی باتوں اور واقعات نے ہمیںخاص طور پر متاثر کیا ہے کہ مردانہ راج کے اس معاشرے میں ایک عام سی معصوم عورت کیا کیا بننے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اگر اس کا پولیس افسر شوہر اس پر بے پناہ سختی اور تشدد نہ کرتا اور اسے بچوں سمیت اس خونخوار معاشرے میں یک و تنہا نہ چھوڑتا تو شاید وہ بھی ایک ماں بن کر اپنی زندگی بتا لیتی، مردوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر دوسرا راستہ اختیار کرتی نہ ہی اتنے افسانے بنتے جنھیں مز ے مزے لے لے کر ایک عرصے تک سنا اور پڑھا گیا اور پڑھا جاتا ہے ۔
ایسے اور بھی بہت سارے کردار ہیں جو نظر تو کچھ آتے ہیں اور حقیقت میں کچھ اور ہوتے تھے، انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس '' باغ بے باغبان میں کتنے باغبان آئے اور صرف '' گل چینی '' کرکے چلے گئے یا گل فروشوں نے ان کو باغبان سے '' گل چین ''بنے پر مجبور کر دیا۔ بہر حال کتاب خاصی پڑھنے کی چیز ہے جس سے نہ صرف ان بھولے بسرے لوگوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے بلکہ اس '' بھولے بھالے '' ملک کے بھولے عوام کی بھلا دینے والی عادت کا پتہ بھی چل جاتا ہے، یہ بھی کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اور عطاروں کے کہنے پر ہر خوشبو دار یا بدبودار چیز مشک نہیں بن جاتی ۔دوسری کتاب ایک اور صحافی جاوید راہی کی جیل کہانی ہے جس میں عام لوگوں کی عام لیکن خاص کہانیاں بیان کی گئی ہیں کہ معاشرے اور حالات نے کتنے بن کھلے غنچوں کو مرجھانے بلکہ '' مرجانے '' پر مجبور کیا ہوا ہے۔گویا ایک طرح سے پہلی کتاب '' خاص لوگوں '' کی کہانیاں سناتی ہے اور دوسری عام لوگوں کے واقعات پر مبنی ہے جو
ہماری جان پہ بھاری تھا غم کا افسانہ
سنی نہ بات کسی نے تو مر گئے چپ چاپ
سنا ہے قانون کی کتابوں میں لکھا ہے کہ سومجرم بھلے ہی چھوٹ جائیں لیکن کسی بے گناہ کو سزا نہیں ہونی چاہیے اور اسی تناظر میں شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جانا چاہیے۔لیکن ہمارے اس معاشرے میں اور خاص طور پر '' قانون نافذ '' یا بے آبرو کرنے والے ادارے تو قطعی اس کے برعکس کرتے ہیں عملاً معصوم لوگ مجرم بنا دیے جاتے ہیں بلکہ مجرموں کو چھوڑنے کے لیے ''یقین '' کا فائدہ تو مجرموں کو مل جاتا ہے اور '' شک '' کا نقصان معصوموں کو ہو جاتا ہے ۔کتنے تھے کتنے ہیں اور کتنے ابھی اور ہوں گے جو جرم بے گناہی کی سزا کاٹتے رہتے ہیں۔ تقدیر کے قاضی کا فیصلہ کچھ بھی ہو لیکن یہاں '' تعزیر'' کے قاضیوں کا فیصلہ کچھ اور ہوتا ہے۔
ان کی کتاب میں '' جرم ضعیفی'' کے ساتھ اگر ''جرم شریفی''بھی ہو تو اسے مرگ مفاجات سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ جاوید راہی نے جیلوں میں ایسے لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی کہانیاں جمع کی ہیں جو زیادہ تر '' بیسواں قیدی '' ہوتے ہیں۔ کہانی تو سب کو معلوم ہے کہ یہاں اس فرق کے ساتھ دہرائی جاتی ہے کہ '' بیسواں '' قیدی بھاگ نہیں جاتا ہے بلکہ اسے بھگا دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ کسی '' جرم ضعیفی'' کے مجرم کو پکڑ لیا جاتا ہے جہاں مردوں کی جگہ زندے دفن کیے جاتے ہیں اور خود ہی اپنی قبر سمیت دفن کر دیے جاتے ہیں ۔کچھ عرصے سے '' کتاب کلچر '' کے خاتمے کا رونا بہت رویا جا رہا ہے لیکن یہ بات جزوی طور پر درست ہے کلی طور پر نہیں کیونکہ ہر کتاب ،کتاب نہیں ہوتی اور ہر قاری ، قاری نہیں ہوتا ہے بقول زمانہ، اس گئے گزرے زمانے میں بھی کچھ کتابیں ایسی آجاتی ہیں جن میں '' خود پڑھوانے '' کی طاقت بھی ہوتی ہے ۔
در اصل کتابیں بھی انسانوں ہی کی طرح ہوتی ہیں جس طرح انسانوں میں اکثر ایسے لوگ زیادہ پائے جاتے ہیں جن کو دیکھ کر لوگ راستہ بدل لیتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جنھیں ڈھونڈ کر دیکھا اور سنا جاتا ہے۔ کتابوں کا بھی یہی سلسلہ ہے ،اکثریت ان کتابوں کی ہوتی ہے جنھیں پڑھوانے کے لیے اگر کچھ دینے کی لالچ بھی دی جائے تو لوگ تیار نہیں ہوں گے لیکن ایسی کتابیں بھی ہیں اور آج کل بھی خال خال آجاتی ہیں جو اپنی زبردست طاقت سے خود پڑھنے والے بھی پیدا کر دیتی ہیں اور زبردستی خود کو پڑھوا بھی لیتی ہیں بلکہ منوا بھی لیتی ہیں۔جناب علامہ عبدالستار عاصم کے پبلشنگ ادارے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل بھی شاید یہی تہیہ کیے ہوئے ہے کہ مرغی کے انڈوں اور بلی کے بچوں سے زیادہ اچھا یہ ہے کہ شیر اور گھوڑے کا بچہ جنا جائے جن کی مثال زیر تبصرہ دونوں کتابیں ہیں ۔
دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ '' کتاب کلچر '' ختم ہونے کا رونا بھی رویا جاتا ہے اور ایسی کتابیں بھی دھڑا دھڑ چھپ رہی ہیں جنھیں خریدنا تو کیا پڑھنا بھی وقت اور پیسہ برباد کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ہم نے تین کے قریب اردو پشتو کتابیں لکھی ہیں اور ان میں سے اکثر آج کل دستیاب نہیں ہیں، لوگ مانگتے ہیں لیکن ہمارے پاس اتنی فرصت اور استطاعت نہیں کہ دوبارہ چھپوا دیں۔یہ کتنا بڑا المیہ ہے بلکہ لکھنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے کہ بیس کروڑ کی آبادی میں ایک کتاب ہزار پانچ سو پڑھنے والے بھی پیدا نہ کرے، بارے اب اس سے بھی سمجھا جائے۔