اسپاٹ فکسنگ کیس ٹھوس شواہد کے کمزور دعوے ہوا میں اڑ گئے

ملوث کرکٹرز کیخلاف کارروائی سست روی سے چلتے چلتے10ماہ کا عرصہ ہوگیا


Sports Reporter/Abbas Raza December 07, 2017
 عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائے جانے پر میچ مزید لمبا ہوجائے گا، فوٹو : فائل

اسپاٹ فکسنگ کیس میں پی سی بی کی جانب سے ٹھوس شواہد کے کمزوردعوے ہوا میں اڑگئے ملوث کرکٹرز کیخلاف کارروائی سست روی سے چلتے چلتے 10ماہ کے قریب عرصہ ہوگیا۔

سابق چیئرمین بورڈ خالد محمود نےاس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسکینڈل سامنے آیا تو ناقابل تردید ثبوت ہونے کا تاثر دیا گیا،کارروائی میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی،ورنہ کھلاڑی قانونی جنگ لڑنے کا نہیں سوچتے، بورڈ نے سنگین مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا،جرم پر اکسانے والا بکی یوسف کہاں گیا؟ وہ اگر ملوث تھا تو اس پر ہاتھ ڈال کر مزید معلومات لیتے، سلطانی گواہ ہی بنالیا جاتا،کہانی میں بڑے جھول نظر آتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق رواں سال فروری میں پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کا پہلا میچ ختم ہوتے ہی اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نے کرکٹ کی دنیا میں طوفان برپا کیا، اس وقت اطلاعات تھیں کہ آئی سی سی نے برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی سے ملنے والی معلومات پی سی بی کو دیں جس کی بنیاد پر اینٹی کرپشن یونٹ نے کرکٹرز کے خلاف کارروائی کی۔

شرجیل خان اور خالد لطیف کو فوری طور پر معطل کرکے وطن واپس روانہ کردیا گیا، محمد عرفان، شاہ زیب حسن اور ذوالفقار بابر کیخلاف بھی تحقیقات شروع ہوئیں لیکن تینوں ایونٹ میں شریک رہے، بعد ازاں چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی، اینٹی کرپشن یونٹ کے عہدیداروں نے ناقابل تردید ثبوت ہونے اور ملوث کرکٹرز کو نشان عبرت بنانے کے دعوے کیے، شرجیل خان اور خالد لطیف کو چارج شیٹ میں بتایا گیا کہ انھوں نے ناصر جمشید کی طرف سے متعارف کرائے جانے والے بکی یوسف سے دبئی میں ملاقات کرتے ہوئے فکسنگ کیلیے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں اس کیس میں ذوالفقار بابر کو کلیئر قرار دیاگیا، معطل کیے جانے والے محمد عرفان نے بکی سے رابطے کی اطلاع پی سی بی کو نہ دینے کا جرم تسلیم کیا،ان کی 6ماہ معطی کی سزا پوری بھی ہوچکی، ٹریبیونل نے طویل کارروائی کے بعد شرجیل خان کو ڈھائی سال معطل سمیت 5سال پابندی کی سزا سنائی۔

اپیل بھی مسترد ہوئی،خالد لطیف پر 5سال کیلیے کرکٹ کے دروازے بند ہوئے، اپیل کی سماعت ابھی جاری ہے، شاہ زیب حسن اور ناصر جمشید کے کیس ابھی ٹریبیونل میں لٹکے ہوئے ہیں، رواں سال 10فروری کو سامنے آنے والے اسکینڈل کی پرتیں کھولتے 10ماہ ہوگئے، 3رکنی ٹریبیونل کے سربراہ جسٹس (ر) اصغر حیدر، دیگر ارکان سابق چیئرمین پی سی بی لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا اور سابق ٹیسٹ کرکٹر وسیم باری کو 25،25 ہزار روپے یومیہ کے حساب سے ادائیگی ہورہی ہے،سماعتوں کی ففٹی مکمل ہوسکتی ہے، ایک اندازے کے مطابق 40لاکھ روپے کے قریب تو ٹریبیونل ارکان کی جیب میں جائیں گے، وکلا کی فیسیں الگ ہیں، یوں بورڈ کے خزانے سے ایک بڑی رقم خرچ ہو رہی ہے۔

پی سی بی کی جانب سے ٹھوس شواہد کے دعووں کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا رہی تھی کہ فیصلے جلد اور سب کیلیے قابل قبول ہونگے لیکن خالد لطیف نے عدالتوں کا دروازہ کھٹکٹایا،اب شرجیل خان بھی تیار ہیں،''ناقابل تردید'' ثبوتوں کو کوئی ماننے کو تیار نہیں،شرجیل خان کے وکیل شیغان اعجاز نے کوڈ آف کنڈکٹ میں دوران سماعت ٹمپرنگ کا الزام بھی عائد کردیا،پی ایس ایل کا اگلا ایڈیشن شروع ہونے کا وقت قریب ہے لیکن ابھی گزشتہ ایونٹ کا گند صاف نہیں ہوسکا۔ اس حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود نے کہا کہ اسپاٹ فکسنگ کا کیس سامنے آیا تو بورڈ کے بیانات سے تاثر یہی ملا کہ ناقابل تردید اور ٹھوس شواہد موجود ہیں لیکن جتنی کارروائی ہوئی یا گفتگو سامنے آئی اس سے ایسی کوئی بات ظاہر نہیں ہوئی،اگر ٹھوس ثبوت ہوتے تو کھلاڑی قانونی جنگ لڑنے کا نہیں سوچتے۔

انھوں نے کہا کہ مسئلہ بڑا سنگین ہے لیکن میرے خیال میں بورڈ نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا، اسکینڈل سامنے آیا تو بکی یوسف کا نام تسلسل کے ساتھ لیا گیا لیکن بعد میں وہ کہاں گیا؟اگر اس نے ہی کھلاڑیوں کو ترغیب دلا کر فکسنگ پر اکسایا تو وہ مجرم ہے،صرف پلیئرز نے ہی نہیں جرم کیا،دنیا کی ہر عدالت میں ملوث فریقوں پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے،اگر بکی یوسف ملوث تھا تو اس کو کیوں نہیں پکڑوایا گیا؟اس پر ہاتھ ڈال کر مزید معلومات لیتے تو ثبوت بھی مل جاتے، ٹھوس شواہد کیلیے اسے سلطانی گواہ ہی بنالیا جاتا، انھوں نے کہا کہ اسپاٹ فکسنگ کی کہانی میں بڑے جھول نظر آتے ہیں،کوئی واضح چیز سامنے نہ ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ خالد محمود نے کہا کہ اگر دوران سماعت کوڈ آف کنڈکٹ میں تبدیلی کی گئی تواس کا اطلاق شرجیل خان یا کسی کرکٹر پر نہیں ہونا چاہیے،ترمیم کی جا سکتی ہے لیکن اطلاق آئندہ کیسز پر کرنا ہی درست اقدام ہوگا۔