الیکشن کمیشن ترقیاتی کاموں کانہیں پوچھ سکتااحسن اقبال

آرٹیکل لکھنے والے تاثردیتے ہیں جیسے فخروبھائی انکا لنگوٹیا ہو،جسٹس(ر)طارق.


Monitoring Desk March 13, 2013
الیکشن کمیشن کاکام ٹی وی دیکھنانہیں،تسنیم قریشی،کل تک میں جاوید چوہدری سے گفتگو فوٹو : فائل

مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہم نے الیکشن کمشن کی مضبوطی کیلیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کرائے تاکہ ایسی حکومت منتخب ہو سکے جو پاکستان کیلیے بہتر فیصلے کر سکے۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ ملک کی دولت لوٹنے والوں اور ٹیکس چوروں کو الیکشن میں نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے 5سال میں اپنے حلقے میں کیا کیا منصوبے مکمل کیے، مجھ سے سوال حلقے کے عوام کر سکتے ہیں الیکشن کمشن نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن جعلی ڈگری والے کو پکڑے، ٹیکس نہ دینے والے کو پکڑے، کسی بینک ڈیفالٹر کو پکڑے۔ کچھ مہم جو ایسے ہیں جو الیکشن کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔



 

انھوں نے پہلے سپریم کورٹ کو استعمال کرنے کی کوشش کی پھر فوج کے پاس گئے اور اب ان کا حملہ الیکشن کمیشن پر ہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن اچھا منصوبہ ہے لیکن بہتر تھا کہ اس پر کام کچھ دیر پہلے ہو جاتا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما وزیر مملکت برائے پانی وبجلی تسنیم قریشی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام نہیں کہ وہ ٹی وی دیکھے اور وہاں سے ایک لائن لے کر اس پر کام شروع کر دے۔ الیکشن کمیشن کا پوچھنا نہیں بنتا کہ آپ نے حلقے میں ترقی کے لیے کیا کام کیا، کیا نہیں۔ اگر الیکشن کمیشن فارم سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے بنتا تو شاید کسی کو گلہ نہ رہتا۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ عبوری سیٹ اپ سیاست میں حصہ نہیں لے گا اور الیکشن شفاف کرائے گا۔

سینئر قانون دان جسٹس(ر)طارق محمود نے کہا کہ پارلیمنٹیرینز کا کام پالیسی بنانا ہے، محلوں کے گٹر اور نالیاں بنوانا ان کا کام نہیں۔ کاغذات مسترد کرنے کی اتھارٹی ریٹرننگ آفیسر کی ہے اور اگر الیکشن کمیشن کاغذات مسترد نہیں کر سکتا تو کسی بھی امیدوار سے اس کی کارکردگی کی رپورٹ نہیں مانگ سکتا۔ اگر ایف بی آر صحیح طریقے سے کام کرے تو کوئی بھی نہ بچ سکے۔ میڈیا میں جو آرٹیکل لکھے جا رہے ہیں ان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے فخروبھائی ان کا لنگوٹیا ہو۔ آرٹیکلز میں ان کو ڈائریکشن دی جاتی ہے۔ وہ قانون سمجھتے ہیں۔ انھیں پتا ہے کہ کس وقت کیا کرنا ہے، کیا نہیں۔ انھیں گائیڈ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔