آلودہ پانی سپریم کورٹ کی سندھ انتظامیہ کو ڈیڈ لائن

چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ کو دعوت دی ہے کہ شاہ صاحب آپ اور میں مٹھی جا کر نہر سے ایک ایک گلاس پانی پیتے ہیں


Editorial December 08, 2017
سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو صاف پانی فراہم کرنے کے لیے ڈیڈ لائن دے دی ہے، فوٹو: فائل

چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثارنے ریمارکس دیے ہیں کہ پانی کی صورتحال سمیت سندھ کی حالت دیکھ کر دکھ ہوتا ہے، دوسرے صوبوں کو بھی کہتے ہیں صاف پانی دیں، ہم نہیں چاہتے اختیارات ہوں تو حکومت پر چڑھائی کر دیں، غیر جانبداری کے ساتھ عوامی مفادات کے لیے آئینی کردار ادا کریں گے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں فل بینچ کے روبرو کراچی سمیت صوبے بھر میں غیر معیاری اور آلودہ پانی کی فراہمی سے متعلق سماعت پھر شروع ہوئی، فل ینچ میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس فیصل عرب شامل تھے۔ صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال پیش ہوئے۔

کمرہ عدالت میں 15 منٹ سے زاید دورانئے کی سندھ اضلاع سے متعلق دستاویزی ویڈیو دکھائی گئی جس میں لاڑکانہ سمیت صوبہ کے دیگر اضلاع میں زہریلے اور مہلک کیمیکلز ملے پانی کی اندوہناک صورتحال بتائی گئی اور یہ حقیقت دستاویزی ویڈیو کے ذریعے سے معلوم ہوئی کہ سندھ کے لوگ ایسا آلودہ، مضر صحت اور گندہ پانے پیتے اور کاشتکاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اس پر کوئی دورائے نہیں کہ پینے کا صاف پانی کراچی سمیت ملک کے بیشتر عوام کو دہلیز پر میسر نہیں، ادھر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا کہنا ہے کہ آبی قلت سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ منرل اور بوتل مافیا کا غلبہ ہے جب کہ واٹر ٹینکر مافیا پانی فروخت کرکے اربوں روپے کما چکی ہے، کتنی دلچسپ بات ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ خود یہ تسلیم کرگئے کہ وہ کینٹ ایریا میں رہتے ہیں اور پانی خرید تے ہیں۔

پانی کے غیرمعیاری ہونے پرچیف جسٹس نے نہایت شگفتہ پیرائے میں وزیراعلیٰ کو دعوت دی کہ شاہ صاحب اگر آپ کہیں تو میں اور آپ مٹھی جاکر نہر سے ایک ایک گلاس پانی پئیں گے۔ اس کیس کی انسانی صحت سے تعلق کی بنیادی نوعیت کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے سندھ میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں عدلیہ کی دلچسپی اسی شدت اور معیار کی رہے گی جس کا اظہار ملک میں مردم شماری کے ہر قیمت پر انعقاد کے لیے عدالت عظمیٰ نے کیا تھا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ہم صاف پانی بھی مہیا نہیں کر رہے، یہ صوبائی حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے، وزیر اعلیٰ نے کہا حکمت عملی، طریقے، مالیات اور وسائل سے متعلق عدالت کو مدت بتا دیں گے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے یہ طے ہے، کام ہونا ہے اور ہونا بھی جلدی ہے، یہ آپ ہی کا کام ہے، کمیٹی بنا کر ان پر مت چھوڑیں۔ بہرکیف سپریم کورٹ نے 10دن کی ڈیڈ لائن دی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ سندھ حکومت پانی سے متعلق کیا قابل عمل روڈ میپ عدالت کے سامنے پیش کرتی ہے۔