پاک فوج کے سربراہ کی کھری کھری باتیں

بلوچستان کے بیس ہزار کے قریب بیٹے پاک فوج میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں،آرمی چیف


Editorial December 09, 2017
بلوچستان کے بیس ہزار کے قریب بیٹے پاک فوج میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں،آرمی چیف۔ فوٹو : فائل

RAWALPINDI: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ وہ جمہوریت پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ وہ کوئٹہ میں نوجوانان بلوچستان، مواقع اور چیلنج کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ پاک فوج کے سربراہ نے تسلیم کیا کہ فوج اور سیاستدانوں سب نے غلطیاں کیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ سب اپنا اپنا کام کریں۔ آرمی چیف نے واضح کیا کہ وہ جمہوریت پسند ہیں اور ووٹ کی طاقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کا یہ مطلب نہیں کہ عوامی خدمت کے بجائے ہم اپنے مفاد کو ترجیح دینے لگیں۔ ملکی پسماندگی کے تناظر میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اس کی بنیادی وجہ معیاری تعلیم کا فقدان ہے۔

انھوں نے کہا کہ طلبا کو معیاری تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ آئی ایس پی آرکے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطاب کرتے ہوئے فوج اور ایف سی کے تعلیمی اداروں میں بلوچ طلباء کی تعداد کا ذکر کیا جو کیڈٹ کالجز اور اسکول سے معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا بلوچستان کے بیس ہزار کے قریب بیٹے پاک فوج میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جن میں چھ ہزار آفیسرز ہیں جب کہ ڈھائی سو کے لگ بھگ کیڈٹ کاکول میں پی ایم اے کورس کر رہے ہیں۔ بلوچ نوجوانوں کے بارے میں محرومی اور تنہائی کا جو تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے آرمی چیف نے اس تاثر کی نفی کر دی۔ انھوں نے کہا کہ صوبے کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان ایئرفورس، پاک بحریہ اور دیگر سیکیورٹی اداروں میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ ہمارا مستقبل روشن اور ہمارے نوجوان بہت ہی با صلاحیت ہیں۔

بلوچ نوجوان اتنے ہی باصلاحیت ہیں جتنے ملک کے دوسرے علاقوں کے رہنے والے نوجوان۔ پاک فوج کے سربراہ نے جو باتیں کی ہیں' آج کے تناظر میں ان کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں ہے' پاکستان کو ترقی یافتہ اور پرامن ملک بنانے کے لیے جہاں اداروں کو آئینی و قانونی حدود میں رہ کر فرائض انجام دینا ہے تو وہاں جمہوری اداروں مثلاً پارلیمان اور سیاسی حکمرانوں کو بھی اپنے آئینی رول میں ہی رہنا چاہیے' اگر آئین و قانون کی پاسداری ہو گی تو ملک ترقی کرے گا اور جمہوری نظام پھلے پھولے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ ماضی کی غلطیوں پر ایک دوسرے کو طعنہ دینے کے بجائے مستقبل کو سامنے رکھ کر راہ عمل کا تعین کیا جائے۔