ٹرمپ کے اعلان کیخلاف مسلمانوں کے مظاہرے

بیت المقدس کی حیثیت کا فیصلہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کے حل سے کیا جا سکتا ہے


Editorial December 09, 2017
بیت المقدس کی حیثیت کا فیصلہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کے حل سے کیا جا سکتا ہے۔ فوٹو:فائل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے خلاف مسلم ممالک سمیت دنیا بھر میں مسلمانوں نے احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں جب کہ فلسطینیوں نے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے ''القدس ہمارا'' کی نئی تحریک شروع کر دی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں میں جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں 31فلسطینی زخمی ہوئے۔ ٹرمپ کے اس متنازعہ اعلان کی تمام بڑے ممالک برطانیہ' روس' کینیڈا'چین' جرمنی' فرانس اور دیگر ممالک نے مخالفت کی ہے۔ اس صورت حال کے تناظر میں امریکا سفارتی محاذ پر تنہا رہ گیا ہے۔

ترک صدر طیب اردگان نے پاکستانی صدر ممنون حسین کو فون کیا جس میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امریکی صدر کے فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام پر منفی اثر پڑے گا' 1967ء کی سرحد اور بیت المقدس دارالحکومت والی فلسطینی ریاست کے قیام تک امن قائم نہیں ہو گا۔ ترجمان چینی دفتر خارجہ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکی صدر کے اس اعلان سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بڑے فخر سے کہا تھا کہ سابق امریکی صدور بھی یہ کام کرنا چاہتے تھے مگر انھوں نے اس کی جرات نہیں کی یا انھوں نے اپنا ذہن بدل لیا تھا مگر میں نے جو انتخابی وعدہ کیا تھا اسے آج پورا کر رہا ہوں۔ ٹرمپ کے اس متنازعہ اعلان کی جہاں ان کے اپنے اتحادی ممالک برطانیہ' جرمنی' فرانس وغیرہ نے مخالفت کرتے ہوئے یہ نقطہ نظر اپنایا ہے کہ یہ اقدام امن عمل میں مدد گار نہیں ہو گا جب کہ بیت المقدس کی حیثیت کا فیصلہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کے حل سے کیا جا سکتا ہے وہاں پوری مسلم دنیا بھی اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج بن گئی ہے' غزہ' مغربی کنارے' لبنان' اردن' ترکی' مصر' انڈونیشیا' پاکستان کے علاوہ مغربی دنیا میں آباد مسلمانوں نے بھی احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ اعلان کرکے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

فلسطینی آزادی کی تحریک چلانے والی جماعت حماس کے سربراہ اسماعیل حانیہ نے نئی انتفاضہ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حمایت یافتہ صیہونی پالیسیوں کا راستہ نئی انتفاضہ ہی سے روکا جا سکتا ہے۔ فلسطینیوں کی جانب سے نئی تحریک شروع کرنے کے باعث اسرائیل نے غرب اردن میں اپنے مزید سیکڑوں فوجی تعینات کر دیے ہیں۔ اس طرح ایک بار پھر فلسطین کے علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ اب جو کشیدہ صورت حال پیدا ہوئی ہے گمان ہے کہ جب تک صدر ٹرمپ اپنا یہ فیصلہ واپس نہیں لیتے تب تک فلسطین میں حالات معمول پر نہیں آئیں گے اور فلسطینیوں نے جو نئی تحریک شروع کی ہے وقت گزرنے کے ساتھ اس میں شدت آتی چلی جائے گی اور اگر اسرائیلی فوجوں کے ساتھ جھڑپیں شروع ہوئیں تو اس سے فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

یہ صورت حال چند ماہ بھی یونہی برقرار رہی تو اس سے پورے مشرق وسطیٰ کا امن اور سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی جس کا بہرحال نقصان مسلمانوں ہی کا زیادہ ہو گا۔ صدر ٹرمپ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ دفاعی لحاظ سے کمزور مسلمان احتجاجی مظاہروں کے سوا کچھ نہیں کر سکتے اور اس سے امریکا کا کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکا اپنا اعلان واپس لیتا ہے یا نہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن نے ٹرمپ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعلان صرف حقیقت کا ادراک ہے' اسرائیل کے اہم دفاتر پہلے ہی بیت المقدس میں ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ٹرمپ کا اعلان اسرائیل کے قیام جتنا اہم ہے۔

صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا لیکن اس کا فائدہ تب ہی ہو گا جب امریکا اپنا متنازعہ فیصلہ واپس لے گا۔ او آئی سی کا ہنگامی سربراہی اجلاس بھی 13دسمبر کو استنبول میں بلا لیا گیا ہے۔ اگر اسرائیل نے اپنا دارالحکومت تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کر دیا تو خدشہ ہے کہ خطے میں نئی جنگ شروع ہو جائے گی جو پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس کے مستقبل کا فیصلہ طاقت کے بجائے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے' وہ آپس میں مل بیٹھیں اور تصفیہ طلب مسائل کے بارے میں کوئی مثبت اور قابل قبول فیصلہ کریں۔